ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شعیب ملک نے بابراعظم کو قومی ٹیم کی کپتانی چھوڑنےکا مشورہ دیدیا

datetime 19  اپریل‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ بابر اعظم کو رضا کارانہ طور پر خود قیادت چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ بابر اعظم ایک بہترین بلے باز ہے لیکن ہم لوگ اس کی قائدانہ صلاحیتوں اور بیٹنگ کی اہلیت کو ایک ترازو میں رکھ کر ناانصافی کرتے ہیں۔

شعیب ملک نے کہا کہ ایسا 20سے 25سال پہلے ہوتا تھا، جب ایک کھلاڑی اپنی انفرادی کارکردگی سے میچ جِتا دیا کرتا تھا، آج ایسا نہیں ہے، آپ کو ٹیم میں چار سے پانچ پرفارم کرنے والے درکار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ بابر اعظم کی جگہ ہوتے تو قیادت سے علیحدہ ہو کر اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز رکھتے، انہوں نے بابر اعظم کے قریبی لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ انہیں کپتانی چھوڑنے کا مشورہ دیں۔سابق کپتان شعیب ملک کہتے ہیں اس سے بابر اعظم بین الاقوامی سطح کے کئی اور ریکارڈ بنا سکتے ہیں اور صرف دبائو ان کی بیٹنگ تک محدود رہے گا۔ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کی کپتانی ابھی بہتری کے عمل سے گزر رہی ہے اور اس میں پختہ ہونے میں انہیں بہت وقت درکار ہے، ہمارا کلچر یہ ہے کہ ہم فورا نتائج کی امید کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…