بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

نادرا نے بڑے کرپشن کیسز میں ملازمین کو برطرف کرنیکی سنچری مکمل کرلی

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک)نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی( نادرا) نے افغان شہریوں کو قومی شناختی کارڈز جاری کرنے اور بڑے کرپشن کیسزمیں ملازمین کو برطرف کرنے کی سنچری مکمل کرلی ہے۔جنگ رپورٹر عثمان منظور کے مطابق اتھارٹی میں گندے انڈوں کیخلاف تازہ کارروائی میں درجنوں افسران ، ٹیکنیکل سٹاف اورڈیٹا انٹری آپریٹرزکوگھربھجوا دیاگیاجبکہ کئی کرپشن کیسزایف آئی اے کو بھجواد ئیے گئے ہیں۔ایک اعلیٰ ذرائع نے بتایاکہ کرپشن کے الزا مات پر اب تک ہم نادرا کے 100 ملازمین کو نکال چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چندافسران نےاتھارٹی کو اعترافی بیانات بھی داخل کرائے ہیں کہ وہ نادرا میں لوٹ مارکرنےوالوں کاحصہ رہ چکے ہیں۔ ان اعترافات میں سےایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پروکیورمنٹ محمد اقبال کے بیان جس کی نقل دی نیوز کے پاس ہےمیں بتایاگیاہے کہ این ایچ اے کےاایف آئی ڈی ٹیگز (ریڈیوفریکوئنسی شناخت)پراجیکٹ میں این ایچ اے کے لوگوں سے ملی بھگت کرکے ایک فرم کو نوازا گیا اور اس سےہارڈویئر کی خریداری کی گئی۔اقبالی بیان میں بتایا گیا کہ ” سولر سسٹم پراجیکٹ ( کرائے کی بنیاد پر)۔ گوہر اورراٹھور اس پراجیکٹ پرما مور تھے۔دوسال میں اس پراجیکٹ کے 15مرتبہ ٹینڈر ہوئے کمپنیوں کی طرف سے کم بولیوں کی پیشکشوں پر غور بھی کہا گیا۔ ایک کمپنی آخر میں آئی جس کی منظوری ابھی ہونا باقی ہے۔ تاحال فائل بھی منظوری کے عمل میں ہے۔ہارڈویئر کے مطابق 62 مقامات کیلئے مکمل سولر پینل سسٹم درکار تھے۔ میٹنگ کے منٹس محفوظ نہیں کئے گئے۔ راٹھور صاحب اور قیصر صاحب منٹس جاری کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن انہوں نے یہ عمل چھٹی بڈمیٹنگ کے بعد شروع کیا۔ ٹینڈر کے حوالے سے کمپنیوں کی جانب سے اعتراضات کئے گئے کہ یہ بہت مخصوص نوعیت کےاور ایک مخصوص کمپنی کے حق میں تھے۔ اس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سندھ آرم لائسنس پراجیکٹ میں ایک خاص کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔ بیان کے مطابق ”(ڈائریکٹر پراجیکٹس) فیصل جمشید، (ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹس) خضر مصباح نے معاہدے کو حتمی شکل دی اورنمونوں کی منظوری دی ( ہر کمپنی نے 10 سیمپلز دئیے) صرف ایک کمپنی مطلوبہ مقدار میں نمونے فراہم کرسکی اور اسی بنا پر اسے کام دیدیا گیا۔ آدھی ڈیلیوری ہونے پر نصف ادائیگی ہوگئی۔ فیصل جمشید نے اقبال کو کہا کہ ایکس میگا پلس (اسلام آباد) کمپنی کو ٹھیکہ ملنا چاہئے۔ درکار ہارڈویئرمیں 37 سائٹس کیلئے 200 کمپیوٹرز ،سرورز ، ڈیٹا انٹری کیلئے لیپ ٹاپس شامل تھے۔تمام امور سی ڈی سی پی کی ایف سکس میں واقع عمارت میں انجام پائےکیونکہ پرائم منسٹرآفس کے تمام افراد وہیں تھے اس لئے یہ سہل تھا“۔ اسی طرح بیان میں کہا گیا ” پنجاب آرمز لائسنس کیلئے ہارڈ ویئر ،کمپیوٹرز،کرورز،پرنٹرزاوردیگرسندھ آرمزلائسنس جتنا تھا۔ مختار ڈیلر اور 3 سال کی سپورٹ وارنٹی بھی لازمی تھی۔ میگا پلس کو ٹھیکہ دیدیا گیا۔ تمام سامان فراہم کردیا گیااور بعض ادائیگیاں ابھی باقی ہیں۔ فیصل جمشید، شمس الاسلام ( ڈپٹی ڈائریکٹر ہارڈوئیر)معاملات طےکررہے تھے۔ میگا پلس کی جانب سے عبدالصمد معاملات انجام دےرہے تھے“۔ بیان میں بتایا گیا کہ 3 سال قبل پرانم منسٹر آفس کو ڈیٹا انٹری سکیننگ کیلئے 4/6 سکینرز درکار تھے۔ دو کمپنیوں / سکینرز کی سفارش کی گئی۔ ” ایک کو اس بنا پر مسترد کردیا گیا کہ انہیں ایک مخصوص سکینر درکار تھا ( اگرچہ اسکی قیمت زیادہ تھی)۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ سکینر سافٹ ویئر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ تمام سکینرز ایچ کیو میں تھے۔ اگرکوئی کسی فروخت کار کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہو تو وہ مخصوص چیز پر اصرار کرتا ہے تاکہ کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اکثر کمپنیاں ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد ہو جاتی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…