جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

یواے ای کاخطرناک ماربرگ وائرس سے متعلق پھر انتباہ

datetime 5  اپریل‬‮  2023 |

ابوظہبی (این این آئی )متحدہ عرب امارات نے ماربرگ وائرس کے خلاف صحت کی دوسری وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں اوررہائشیوں پرزوردیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیراختیارکریں اوران ممالک کا سفرکرنے سے گریز کریں جہاں یہ وبا پھیلی ہے۔امارات نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت اورروک تھام (ایم او ایچ اے پی)نے عوام پرزوردیا کہ

وہ ماربرگ نکسیربخارکا سبب بننے والے وائرس سے آگاہ رہیں اور دوافریقی ممالک تنزانیہ اور ایکواٹوریل گنی کا غیرضروری سفرکرنے سے گریزکریں۔ان دونوں ممالک میں ماربرگ وائرس پھیلاہے۔وزارت نے اس بات پر زوردیا کہ وائرس کواس کے موجودہ جغرافیائی دائرہ کارمیں روکنے کے لیے بین الاقوامی صحت کے معیارکے مطابق تمام ضروری احتیاطی تدابیراختیارکی جارہی ہیں اوراس بیماری کی عالمی شدت کا تعین کرنے کے لیے ان ممالک میں صورت حال پرگہری نظر رکھی جا رہی ہے۔سعودی عرب اورسلطنت عمان نے بھی اسی طرح کا انتباہ جاری کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد حکام کی رپورٹ سے دگناہے۔اس نے دونوں افریقی ممالک میں رہنے والے شہریوں پربھی زوردیا گیا ہے کہ وہ وائرس سے خود کوبچانے کے لیے احتیاطی تدابیراختیار کریں اورمتعلقہ صحت اقدامات پرعمل کریں۔اماراتی وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر سفر ناگزیرہے تو لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہییں جیسے مریضوں کے ساتھ قریبی رابطے سے بچا جائے، آلودہ سطحوں کو نہ چھوا جائیاور غاروں اور بارودی سرنگوں میں جانے سے گریزکیا جائے۔وزارت کے مطابق اماراتی شہری اور رہائشی جو متاثرہ علاقوں سے ملک واپس آئے ہیں،وہ خود کو الگ تھلگ رکھیں اورقریبی اسپتالوں کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ یامراکزِصحت میں طبی امداد حاصل کریں۔متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والے افراد کولازمی طور پرطبی عملہ کو مطلع کرنا ہوگا کہ

وہ کسی ایسے علاقے میں گئے ہیں جہاں ماربرگ وائرس کی بیماری پھیل رہی ہیاورآیا وہ متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں ، یا 21 دن تک علامات ظاہر کرتے ہیں۔وزارت صحت نے عوام پریہ بھی زوردیا ہے کہ وہ ماربرگ وائرس کے حوالے سیغیرسرکاری معلومات نہ پھیلائیں اور صرف سرکاری پلیٹ فارمزکی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیرپرعمل کریں۔

وزارت صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یواے ای کا وبائی امراض کی نگرانی کا نظام بہت مثر ہے اور صحت کے دیگر حکام کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی میں ہے۔ماربرگ وائرس ایک جان لیوا بیماری ہے جو شدید بخار کا سبب بنتی ہے۔اس کے ساتھ اعضا کی ناکامی ،

یرقان اورصحت کی دیگرسنگین پیچیدگیاں بھی شامل ہیں۔یہ جانوروں سے انسانوں میں بند ماحول میں منتقل ہوتا ہے،جیسے بارودی سرنگوں یاغاروں میں جہاں چمگادڑیں رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…