ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس نظریہ ضرورت کیخلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، اعتزاز احسن

datetime 3  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)معروف قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نظریہ ضرورت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں،90 دن میں انتخابات آئین کا تقاضا ہے،91 ویں دن نگران حکومت صفر ہو جائے گی، ماضی میں میاں خاندان کی ایک جج کو دی ہوئی ڈکٹیشن ریکارڈ پر ہے،

جسٹس منیر کی وراثت نظریہ ضرورت ہے جس کی وجہ سے مارشل لا لگے۔لائرز کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ 90 دن میں انتخابات آئین کا تقاضہ ہے، پہلی بار دیکھ رہے ہیں آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، حکومت زبردستی کر رہی ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ پوری قوم اور وکلاء اپنے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ کھڑے ہیں، پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، نظریہ ضرورت کب تک استعمال ہوگا۔پی پی رہنما نے کہا کہ رینجرز تو رانا ثناء اللّٰہ کے ماتحت ہے وہ کیسے رینجرز کو اجازت دے گا، ایک بندہ آپ کا عدالت سے فراڈ کرکے بھاگا ہوا ہے، ماضی میں میاں خاندان کی ایک جج کو دی ہوئی ڈکٹیشن ریکارڈ پر ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس منیر کی وراثت نظریہ ضرورت ہے جس کی وجہ سے مارشل لا لگے، آئین کہتا ہے 90 دن میں انتخابات کروائیں، 91ویں دن نگراں حکومت صفر ہو جائے گی، 1971 میں یحییٰ خان نے جب الیکشن موخر کیے تو بنگلہ دیش بنا ملک ٹوٹ گیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن نہ کروانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…