اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالتی فیصلوں کی تعمیل نہ ہوئی تو ملک میں کچھ اور ہی ہوگا، شیخ رشید کا انتباہ

datetime 28  مارچ‬‮  2023 |

را ولپنڈی(پی پی آ ئی) عوامی مسلم لیگ کے سر براہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ سارے لوگ کان کھول کر سن لیں اگر عدلیہ کے فیصلوں کی تعمیل نہ ہوئی تو پھر اس ملک میں کچھ اور ہوگا جس کی لپیٹ میں سارے آئیں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر

اپنے پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ عدلیہ ماں جائی ہے، عدلیہ کا کوئی لاڈلہ بیٹا نہیں، تمام ادارے عدلیہ کے ماتحت ہوتے ہیں، عدلیہ کی حکم عدولی ملک کی بقاکو خطرے میں ڈال دیتی ہے، عدلیہ ہی آئین، قانون اور ملکی بقا کا دوسرا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے لوٹ مار کے کیسز ختم کروانے کیلئے سازش سے حکومت بنانا قومی بد دیانتی ہے، عدلیہ نہیں ہوگی تو جمہوریت نہیں ہوگی، آئین قانون کسی کا سہولت کار نہیں ہوتا، لوٹ مار کرنے والے اور ملکی خزانے کو تباہ کرنے والے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں، حکومت خود تو ذلیل ہوگئی ہے اب اداروں کو بھی ذلیل کرنا چاہتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر داخلہ عقل کے ناخن لیں اور پاگل پن کے بیانات سے گریز کریں، پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر سے انتخابات کی حمایت میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام سعودی عرب اور امارات کے بغیر نہیں ہوگا، 10کلو آٹے کیلئے 10 لوگ مرگئے ہیں، سیاسی، اقتصادی، سماجی استحکام صرف انتخاب سے آئے گا، جب تک انتخاب نہیں ہوں گے، انتشار اور خلفشار رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…