جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کوشش ہے اپنی کارکردگی سے کورونا سے متاثر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لاؤں،بین ڈنک کا عزم

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)لاہور قلندرز کے اسکواڈ میں شامل جارح مزاج آسٹریلوی بیٹسمین بین ڈنک نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ اپنی کارکردگی سے کورونا وبا سے متاثر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لائیں اور ایسا کچھ کر دکھائیں کہ لاہور قلندرز کے مداحوں کو فخر محسوس ہو۔ایک انٹرویومیں بین ڈنک نے کہا کہ پی ایس ایل میں

لاہور قلندرز کا آغاز کافی اچھا ہوا ہے، امید ہے آگے بھی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے، ٹیم کی تیاریا ں کافی پرجوش ہیں، کورونا کی وجہ سے حالات مشکل ہیں لیکن ٹیم ضرور اچھا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بائیو سیکیور ببل کی وجہ سے پلیئرز کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے، کمروں میں محدود رہنا اور بس کرکٹ کے لیے باہر نکلنا، یہ سب کچھ بہت مشکل ہے اور اکثر اسکا اثر ہو جاتا ہے، یہ سب کچھ بہت تھکا دینے والا عمل ہے، وہ خود بھی گزشتہ سال پی ایس ایل فائنل سے بمشکل پانچ یا چھ دن ببل سے باہر رہے ہوں گے، یہ سب مشکل ہے مگر اس کا ا ن کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں ہو گا اور وہ لاہور کے لیے بھرپور انداز میں پرفارم کریں گے۔تینتیس سالہ آسٹریلوی کرکٹر نے کہا کہ لاہور قلندرز کا کامبی نیشن کافی اچھا ہے، اکثر پلیئرز وہی ہیں جنہوں نے پچھلے ایڈیشن کی اچھی کارکردگی میں اپنا کردار ادا کیا، امید ہے کہ جو پچھلے برس اچھا ثابت ہوا تھا وہ اس سال بھی اچھا ثابت ہو۔ان کا کہنا تھا قلندرز گزشتہ ایڈیشن میں فائنل تک آئے تھے مگر فائنل میں اچھی کرکٹ نہ کھیل سکے، امید ہے اس بار پہلے سے بھی بہتر پرفارم کریں گے اور ٹورنامنٹ جیتیں گے۔ایک سوال پر بین ڈنک کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی کارکردگی اور گیم پلان اس سال ٹیم کی حوصلہ افزائی کرے گا، ضرورت اس بات کی ہے کہ

اس ہی مومینٹم کو برقرار رکھا جائے۔آسٹریلوی کرکٹر نے کہا کہ ان کے لیے ذاتی سنچری سے زیادہ ٹیم کی جیت اہم ہے اور ایسی ہی سوچ کراچی کے خلاف پچھلے سال تھی جب انہوں نے 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، اگر اس سال سنچری بنانے کا موقع ملا تو اچھا ہو گا لیکن انہیں زیادہ خوشی اس وقت ہو گی جب انہیں یہ موقع ملے کہ وہ ٹیم کی جیت میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…