ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

شاداب خان کے خون میںکونسے موذی مرض کے وائرس کی تشخیص ہوئی؟ قریبی ذرائع نے تصدیق کر دی

datetime 1  مئی‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی)لیگ اسپنر شاداب خان کی بیماری سے متعلق حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹر نے دانت میں تکلیف کے بعد ایک عام دندان ساز سے علاج کرایا اور ڈینٹسٹ کے آلات سے شاداب خان کے خون میں ہیپاٹائٹس سی کے وائرس کی تشخیص ہوئی۔شاداب خان کے قریبی ذرائع کے مطابق اگر شاداب خان دانتوں کے کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج کراتے تو انہیں ہیپاٹائٹس کا وائرس نہ لگتا،

عام طور پر یہ وائرس حجام کی دکان اور ڈینٹسٹ کے آلات سے منتقل ہو جاتا ہے۔شاداب خان کو گندے اور غیر معیاری آلات کے باعث ہیپاٹائٹس سی کے وائرس کا سامنا کرنا پڑا ۔دانتوں میں تکلیف کے بعد شاداب خان نے راولپنڈی کے جس ڈاکٹر سے رجوع کیا ان کے آلات سے یہ وائرس ان کے جگر پر حملہ آور ہوا۔ورلڈ کپ روانگی سے قبل پی سی بی میڈیکل پینل نے جب تمام کھلاڑیوں کے خون کے نمونے لیے اور انہیں شوکت خانم ہسپتال کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کرایا گیا تو پی سی بی میڈیکل پینل کو پتہ چلا کہ نوجوان کرکٹر کے خون میں ہیپاٹائٹس سی کا وائرس موجود ہے جس کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کروا کر اس کی تصدیق کی گئی تاہم اس کے لیے نیا سیمپل نہیں لیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق شاداب خان نے بتایا کہ انہوں نے چند دنوں قبل دانت میں تکلیف کے بعد پنڈی میں ایک دندان ساز سے رجوع کیا تھا جس کے آلات سے وائرس نے حملہ کیا۔پی سی بی ذرائع کے مطابق لندن میں ڈاکٹر کی تشخیص کے بعد علاج شروع ہوچکا ہے،عام طور پر یہ علاج تین ماہ جاری رہتا ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ پْرامید ہے کہ دو ہفتے میں اگر شاداب خان کو کمزوری محسوس نہ ہوئی تو وہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق شاداب خان روازنہ کی بنیاد پر تین ماہ تک دوائیں استعمال کریں گے، دو ہفتے بعد ہونے والے مزید ٹیسٹ سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ خون میں ہیپاٹائٹس سی کے وائرس کی کتنی مقدار ہے اور اس کے اثرات کیا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…