اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ، فواد چوہدری

datetime 6  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہاہے کہ چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے۔فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت نے مثبت جواب کورٹ میں جمع کروایا۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعتیں خود مذاکرات کررہی ہیں یا پھر پس پردہ محرک موجود ہیں۔ فواد چوہدری نے کہاکہ ابھی تک مذاکرات سیاسی جماعتیں خود کررہی ہیں ہم چاہتے ہی محرک بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ،مسئلے سارے ادھر ہی سے آتے ہیں۔ صحافی نے سوال کیاکہ کیا مستقبل میں پیپلز پارٹی سے اتحاد کی صورت پیدا ہو سکتی ؟۔

فواد چوہدری نے کہاکہ سنجیدہ جماعتیں چاہتی ہیں کہ معاملات آگے بڑھیں ،حکومت کے جواب سے ظاہر ہوتا وہ جلدی اسمبلی توڑنے کے لئیے تیار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے مؤقف میں پہلے بھی لچک دکھائی ہے ،ہم نے کہا ہے کہ ایک دن انتخابات کے لئیے آئینی ترمیم کرنے کو تیار ہیں۔سابق وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ افسوس ہے سیاست دانوں کو موقع ملا لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا،مذاکرات ہوئے کہ ملک کے مسائل حل کیے جا سکیں، الیکشنز ہو سکیں۔

انہوں نے کہاکہ اندر مذاکرات ہو رہے تھے اور باہر حکومت کے کچھ لوگ مذاکرات کو تباہ کرنے میں مصروف تھے۔ علی محمد خان نے کہاکہ خواجہ صاحب آپ کس بنیاد پر مذاکرات کے خلاف گرجے،پیپلزپارٹی کے کچھ لوگ بھی مذاکرات کے خلاف بولے۔ علی محمد خان نے کہاکہ کہا جاتا ہے پارلیمان سپریم ہے ،اللہ سپریم ہے اور نیچے عدالت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وکلا سے پہلے عدالت کی ذمہ داری ہے کہ آئین بچائیں ۔ انہوںنے کہاکہ آئین پاکستان عوام کی امانت ہے، آئین 90 دن میں انتخابات کا کہہ رہا ہے آپکو کیا اعتراض ہے۔

سابق وزیر شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے ہم نے اپنا جواب جمع کروایا ہے، یقین ہے جج صاحبان نے اس کا مطالعہ کر لیا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے بیٹھی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ الیکشنز کا پروسس اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کو بچانے کے لیے ہم نیک نیتی سے بیٹھے،سیاست میں راستے کھولے جاتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پیش رفت ہوئی لیکن ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔اسد عمر نے کہاکہ پورے ملک کے لوگ سپریم کورٹ اور آئین کیساتھ کھڑے ہیں،ہم آئین سے اظہار یکجہتی کے لیے پرامن ریلی نہیں نکال سکتے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جارہی ،یہ کونسا آئین اور کونسی جمہوریت ہے۔ انہوںنے کہاکہ پچھلے دنوں بھی ہمیں ریلی نکالنے سے روکا گیا،ہم ریلی کے مقام پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…