وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان، پرویز خٹک اور اسد قیصر نے کے پی اسمبلی تحلیل کر نے کی مخالفت کردی

  جمعہ‬‮ 2 دسمبر‬‮ 2022  |  19:43

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اسلام آباد میں ایک اہم شخصیت سے تفصیلی ملاقات کے بعد تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان سے پنجاب اسمبلی توڑنے کے لئے ایک سے دو ماہ کی مہلت مانگ لی ہے۔دوسری جانب وزیراعلی خیبرپختونخواہ محمود خان، پرویز خٹک اور اسد قیصر بھی کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کے حق میں نہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلی ‘پرویز الہی’ نے اسلام آباد آکر ایک اہم شخصیت سے 50 منٹ تک ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال خاص طور پر پنجاب اسمبلی توڑنے اور اس عمل کے اثرات پر بات ہوئی۔بعد ازاں عمران خان سے ملاقات کر کے پرویز الٰہی نے اسمبلی نہ توڑنے کی وجوہات بھی بتا دیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلی’پنجاب کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت سے منصوبے شروع کررکھے ہیں نئے اضلاع سے متعلق بھی قانونی کاروائی پوری کرنی ہے۔یہ کام مکمل ہونے میں ایک سے دو ماہ لگیں گے۔ذرائع پرویز الٰہی کے مطابق انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ ہماری حکومتیں ختم ہوگئیں تو آپ کا سارا پروٹوکول اور سیکیورٹی بھی ختم ہو جائے گی۔آپ سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کو وفاقی حکومت گرفتار کرسکتی ہے۔اس لیے ایک سے دو ماہ انتظار کرلیں تو پنجاب سے ن لیگ کا اپنے عوامی منصوبوں کے ذریعے صفایا کردینگے۔ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ دوسری جانب پرویز خٹک اور کئی سینئر رہنما خیبرپختونخوا اسمبلی توڑنے کے بھی حق میں نہیں۔کے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ مکمل نیوٹرل ہے وفاقی حکومت ہمارے خلاف ہے اسلئے اسمبلیوں کی تحلیل سے فایدہ نہیں نقصان ہوگا۔ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعلی’کے پی اور پرویز خٹک کا موقف ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ہم پنجاب اور خیبر پختونخوا سے دو بارہ جیت کر حکومت بنا سکیں گے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے دونوں کے مطالبات پر مزید غور کے بعد حتمی فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چھوٹے چھوٹے فیصلے

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎