سارہ مہربخاری کی کلاس فیلو تھی

  اتوار‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2022  |  16:32

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ٗ آئی این پی) چک شہزاد میں قتل ہونے والی ایاز امیر کی بہو سارہ انعام خاتون  صحافی مہر بخاری کی کلاس فیلو نکلیں ۔مہر بخاری نے ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں کینیڈا میں سارہ انعام کی کلاس فیلو تھی۔وہ  سب سے پیاری، مہربان روح۔ نرم بول۔یہ اس کی پہلی شادی تھی۔اس نے بہترین جگہوں پر کام کیا تھا۔

دنیا کا سفر کیا تھا اور اب وہ آباد ہونا، ایک مضبوط صحت مند گھر بنانا چاہتی تھی۔دوسری جانب بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار سینیئر صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز اور ان کی مقتولہ بہو سارہ کے درمیان لڑائی کی وجوہات سامنے آگئیں۔ایک نجی ٹی وی نے تفتیشی ذرائع کےحوالے سے بتایا کہ ملزم شاہنواز نے اپنی اہلیہ کو اپنی دیگر 2 شادیوں کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ملزم اپنی بیوی سارہ سے حیلے بہانوں سے پیسے منگواتا تھا۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ سارہ نے اپنے لیے ایک گاڑی خریدی تھی، ملزم نے دھوکے سے گاڑی اپنے نام کرائی جس پر سارہ سے تکرار ہوئی،سارہ نے اپنے دیے گئے پیسوں کا تقاضہ کیا اورگاڑی بھی فوری طور پر اپنے نام کرا نے کا کہا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز نے پیسوں کے تقاضے پر طیش میں آکر اہلیہ سارہ کو قتل کردیا، سارہ نے اپنی شادی سے متعلق کینیڈا میں مقیم والدین کو کچھ نہیں بتایا تھا، مقتولہ سارہ کے پاس کینیڈا کی شہریت تھی۔

علاوہ ازیں تفتیشی ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ مقتولہ سارہ کے چچا کرنل (ر) اکرام اور ضیا الرحیم نے بھتیجی کے قتل کا الزام ایاز امیر اور ان کی سابق اہلیہ پر عائد کیا، ان کا کہنا تھا کہ ایاز امیر اور ان کی سابق اہلیہ نے بھتیجی سارہ کو قتل کرایا۔دوسری جانب پولیس نے ایاز امیر اور ان کی سابق اہلیہ کے بھی وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے ہیں جب کہ بیٹے شاہنواز کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد کے فام ہائوس میں ملزم شاہنواز نے اپنی اہلیہ سارہ کو سر پر لوہے کی راڈ مار کر بے ہوش کیا اور پھر اسے نہانے والے ٹب میں ڈال کر پانی کھول دیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎