جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں اسحاق ڈار کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) حکمران اتحاد نے وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں اسحاق ڈار کے حوالے کرنے اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ملک میں جاری سیاسی بحران پر حکمران اتحاد کی قیادت نے سر جوڑ لئے۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق اس حوالے سے

سابق صدر آصف زرداری، مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمان کے مسلسل رابطے جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کی جانب سے موجودہ بے یقینی کی صورتحال کے خاتمے کیلئے اہم پیشرفت سامنے آئی۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں اسحاق ڈارکےحوالےکرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ حکمران اتحاد مزید مشکل حکومتی اور سیاسی فیصلے کرنے پر غور کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد نے اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کا بھی فیصلہ کرلیا ، وزیراعظم شہبازشریف وطن واپسی پر دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے۔وزیراعظم وطن واپسی سےقبل میاں نوازشریف سےملاقات کریں گے، اسحاق ڈار نے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد پاکستان واپسی کی حتمی تاریخ کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان جاکر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھائوں گا۔ ایک انٹرویومیں اسحق ڈار نے کہاکہ وطن واپسی پر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھائوں گا اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف جو بھی ڈیوٹی لگائیں گے ماضی کی طرح نبھائوں گا۔انہوںنے کہاکہ شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر کامیاب دورے کے بعد (آج)ہفتہ کو لندن آئیں گے اور شہباز و نواز سے مشورہ کرکے جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کروں گا۔اسحاق ڈار نے کہاکہ عدالت نے ہماری درخواست منظور کی اور وارنٹ معطل کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر تک واپسی کرلیں۔خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے اور وطن واپسی پر ان کی گرفتاری سے روک دیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…