منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 12  اگست‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا،جہاں عدالت نے ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔دنیا نیو زکے مطابق پولیس نے شہباز گل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ڈیوٹی مجسٹریٹ عمر شبیر کے روبرو پیش کیا،

قبل ازیں پولیس نے عدالتی حکم پر شہباز گل کا طبی معائنہ بھی کروایا، جس کی رپورٹ پولیس نے عدالت میں پیش کی۔شہباز گل کی لیگل ٹیم سے ملاقات کے حکم پر فواد چودھری سمیت دیگر نے ان سے گفتگو کی، پولیس نے عدالت میں شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی، تفتیشی افسر نے بتایا کہ شہباز گل کی آڈیو پروگرام کی سی ڈی لی ہے، جو کہ میچ کر گئی ہے، ایک موبائل فون ان کی گاڑی میں رہ گیا تھا، دوسرا ان کے پاس تھا ۔شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ 4 بجے کا وقت تھا اس وقت کوئی موبائل نہیں چل رہا تھا سگنل نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ مجھ پر تشدد کیا گیا، جس کے نشانات موجود ہیں، فزیکل چیک اپ نہیں کیا گیا جبکہ وکلا سے ملنے بھی نہیں دیا جا رہا، ساری رات مجھے جگایا جاتا ہے، شہباز گل نے عدالت کو اپنی کمرپر تشدد کے نشانات دکھاتے ہوئے کہا کہ جعلی میڈیکل رپورٹ کو دیکھیں۔شہباز گل نے مزید کہا کہ اپنی افواج کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسی بات کروں، دوران تفتیش مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ جنرل فیض حمید سے کتنی با ملے، اور سابق وزیراعظم عمران خان کیا کھاتے ہیں۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ ٹرانسکرپٹ تھا جو پڑھا گیا، یہ نہیں بتایا جا رہا کہ کون اس کے پیچھے ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے، سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ، موبائل، لیٹ ٹاپ تک رسائی نہیں دی جارہی۔جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ ڈرائیور کو انہوں نے بنی گالہ میں چھپایا ہوا ہے، انہوں نے ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی جس پر شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے فزیکل ریمانڈ کی ضرورت ہی نہیں وہ ویسے بھی کرا سکتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…