بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان نئی مشکل میں ، شہبازشریف نے تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 11  اگست‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے تین سال اور آٹھ ماہ کے دور حکومت میں معیشت کے تمام شعبوں میں ملک کو ہونے والے نقصانات بشمول توانائی کے شعبے میں پچھلی حکومت کی قابل اعتراض حکمت عملی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی تحقیقات کے مینڈیٹ کے ساتھ متعلقہ حکام کو آئندہ 7 سے 10 روز میں انکوائری کمیشن مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

روزنامہ جنگ میں خالد مصطفیٰ کی شائع خبر کے مطابق اجلاس میں شامل اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ وزیراعظم نے یہ حکم بدھ کو توانائی کے مسائل پر طلب کیے گئے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دیا۔ وزیر اعظم نے وزارت توانائی کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ ملاقات میں’پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سستی قابل تجدید توانائی پر مہنگی بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دینے‘کی شائع ہونے والی خبر پر بھی بات چیت کی۔ حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم نے انہیں پی ٹی آئی حکومت کے دوران کی گئی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلات کے حوالے سے بھی اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا۔ کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ڈیزل پر چلنے والے آر ایل این جی منصوبے کیوں استعمال کیے گئے اور اس نے کوئلے پر مبنی پاور پلانٹ سے سستی بجلی کو بھی ترجیح کیوں نہیں دی؟ انکوائری کمیشن پی ٹی آئی حکومت کے دوران ملک میں پیٹرولیم سیکٹر میں ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لے گا۔

پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں ایل این جی کے نئے انفراسٹرکچر کو قائم کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں نئے ایل این جی ٹرمینلز کا قیام اور ملک کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن کو کھڑا کرنا شامل ہے۔ انکوائری کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ پی ٹی آئی حکومت اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی اعلیٰ انتظامیہ نے ایل این جی معاہدے پر دستخط کیوں نہیں کیے جب یہ 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر دستیاب تھی۔

اور پی ایل ایل انتظامیہ نے اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ گنور کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ جولائی 2022 میں ختم ہو جائے گا، کسی بھی ایل این جی ٹریڈنگ کمپنی کے ساتھ ٹرم ایگریمنٹ کرنے کے لیے 6 ماہ قبل عمل کیوں شروع نہیں کیا؟ پی ایل ایل پر یہ بھی کارروائی کی جائے گی کہ اس نے نجی شعبے کو تیسرے فریق تک رسائی کے قوانین کے تحت ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…