پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا، قوم کو خوشخبری سنا دی گئی

  جمعہ‬‮ 24 جون‬‮ 2022  |  15:48

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اب دیوالیہ نہیں گا بہتری کی جانب جائے گا،رواں مالی سال بجٹ خسارے کے حوالے یاد رکھا جائے گا، رواں مالی سال 53 سو ارب روپے کا خسارہ ہوا،خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں

،پونے چار سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا،پیٹرول اور ڈیزل پر عمران خان حکومت 120 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی تھی عمران خان ہر سال ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس دیتے تھے اس سال عمران خان نے توشہ خانے کی وجہ سے 98 لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا ک پاکستان میں ایسا کسان دوست بجٹ کبھی نہیں آیا ہم خوردنی تیل اور گندم میں خودکفیل ہوں گے بجٹ کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ نے مفید مشورے دیے ہیں ارکان کی تجاویز کو شامل کرنے سے بجٹ میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں کسان پر سرمایہ کاری سے بہترین ریٹرن ملے گا عمران خان قرض چڑھانے کے بعد خودمختاری کی بات کرتے ہیں عمران خان ملک کو دیوالیہ کی نہج پر لے گئے تھے ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے ہم اب دیوالیہ کی طرف نہیں جارہے ، ترقی کی طرف جائیں گے اس سے زیادہ کسان دوست بجٹ نہیں ہو سکتا، رواں مالی سال بجٹ خسارے کے حوالے یاد رکھا جائے گا، رواں مالی سال 53 سو ارب روپے کا خسارہ ہوا،خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں،پونے چار سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا،پیٹرول اور ڈیزل پر عمران خان حکومت 120 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی تھی

،رواں مالی سال کرنٹ اکائونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہو گا،ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ شروع ہونا ضروری تھا،مجھے اور وزیراعظم کو کریڈٹ دیا جائے وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر ٹیکس بڑھایا ہے میری کمپنی پر بھی ٹیکس بڑھے گا

تیس ہزار سونار کی دکانیں ہیں بائیس دکانیں رجسٹرڈ ہیں آمدن پر ٹیکس ہو گا اخراجات پر نہیں وزیراعظم نے سستا پٹرول ڈیزل اسکیم شروع کی ہے چالیس لاکھ لوگوں نے سرکاری نمبر پر رابطہ کیا ہے دس لاکھ لوگ رجسٹرڈ کر لیے گئے اسی لاکھ لوگ بی آئی ایس پی کے تحت الگ سے ہیں

چھوٹے تاجروں سے فکس ٹیکس وصول کیا جائے گا،سونے کی نجی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس چار فیصد سے کم کر دیا گیا ہے،چالیس ہزار روپے ماہانہ سے کم آمدن والے 40 لاکھ افراد رابطہ کر چکے ہیں،بی آئی ایس پی کے رجسٹرڈ افراد کو 16 ارب روپے اضافی دیے گئے،

ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے کوئی قیمت تو ادا کرنی پڑے گی15 کروڑ سے زائد آمدن والی کمپنی پر ایک فیصد سپر ٹیکس لگے گا20 کروڑ سے زائد آمدن پر 2 فیصد سپر ٹیکس لگے گاشوگر، سیمینٹ، ٹیکسٹائل سمیت 13 شعبوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گاسپر ٹیکس ایک مرتبہ وصول کیا جائے گابجلی کے شعبے کا نقصان رواں مالی سال 16 سو ارب روپے ہو گیا ہے ۔

عمران خان ہر سال ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس دیتے تھے اس سال عمران خان نے توشہ خانے کی وجہ سے 98 لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے فیصلہ کیا ہے کہ پندرہ کروڑ روپے سے زائد کمانے والی کمپنی پر ایک فیصد سپر ٹیکس لگے گا بیس کروڑ پر دو ،پچیس پر تین اور تیس کروڑ سے زائد کمانے والی کمپنی پر چار فیصد سپر ٹیکس لگے گا یہ سپر ٹیکس ایک سال کے لئے ہو گا

دس شعبوں پر دس فیصد سپر ٹیکس ایک سال کے لئے لگایا جائے گا سولہ سو ارب اس سال انرجی کے شعبے میں نقصان اٹھایا گیا ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے امیر اپنا حصہ ڈالیں میں شاہد خاقان عباسی اور دیگر لوگ بھی ذاتی طور پر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سالانہ 25 کروڑ سے زائد آمدن پر 3 فیصد، 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 4 فیصد سپر ٹیکس لیا جائے گاوزیر اعظم نے سستا ڈیزل

، پیٹرول اسکیم شروع کی ہیبجلی کے شعبے میں رواں مالی سال 11 سو ارب روپے کی براہ راست سبسڈی دی گئی بجلی کے شعبے کے سرکولر ڈیٹ میں رواں مالی سال 5 سو ارب روپے اضافہ ہوا ٹیکس کا ہدف 7 ہزار 4 ارب سے بڑھا کر 7 ہزار 4 سو ارب روپے کر دیا گیا ہیوزیراعظم کا شکر گزار ہوں

جنہوں نے خصوصی دلچسپی لی وزیراعظم نے میری باتیں مانیں اور کچھ نہیں بھی مانی وزیر خزانہ کا بجٹ تیاری میں تعاون کرنے پر ایاز صادق،طارق بشیر،عائشہ غوث اور راؤ اجمل سے اظہار تشکر کیا لیدر اور سرجیکل انڈسٹری پر سیلز ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے

فارماسیوٹیکل سے متعلق بھی سفارشات موصول ہوئی ہیں سینیٹ کی بہت سی سفارشات کو شامل کیا جارہا ہے ملکی معیشت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اس سے زیادہ ملک کی خستہ حالی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تسلیم کرتا ہوں کہ

ہم نے پٹرول اور ڈیزل مہنگا کیا ہے صوبوں کو چار ہزار تین سو تہتر ارب روپے دیئے جائیں گے ملازمین کو پہلے بھی دو آنریریئم ملتے رہے ہیں درخواست ہے اسمبلی اور سینیٹ اپنے ملازمین کو دو انریریئم دے بجٹ ڈیوٹی پر پی ٹی وی ،اے پی پی اور ریڈیو ملازمین کو بھی اعزازیہ دیا جائے۔



زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎