جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ہاں میں نے سپاٹ فکسنگ کی تھی کرکٹرخالد لطیف کا اعتراف

datetime 22  مئی‬‮  2022 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سپر لیگ اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان کے بعد خالد لطیف نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ری ہیب کی درخواست کردی ہے۔ انہوں نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے پی سی بی سےمعافی مانگ لی ہے۔ امکان ہے کہ پی سی بی کا اینٹی کرپشن یونٹ آئندہ ہفتے ان کا ری ہیب پروگرام شروع کرے گا۔ روزنامہ جنگ میں عبدالماجد بھٹی کی

خبر کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹر نیشنل کرکٹر خالد لطیف نے تحریر ی طور پر اینٹی کرپشن یونٹ سے ری ہیب کی درخواست کی ہے۔ انہیں بھی سلمان بٹ، محمد عامر، شرجیل خان اور دیگر کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کی طرح ری ہیب پروگرام میں جانا ہوگا۔2017 میں خالد لطیف اور شرجیل خان نے پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کھیلتے ہوئے اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔ واضح رہے کہ خالد لطیف کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر پی سی بی نے 5 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی اور10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ خالد لطیف نے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کے دائرہ احتیار کو بھی چیلنج کیا تھا۔ دسمبر 2021سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران خالد لطیف نے موقف اختیار کیا کہ انھیں اسپاٹ فکسنگ کیس میں 5 سال کی پابندی کی سزا ملی تھی جو کہ 10 فروری کو ختم ہوجائے گی اس لیے میں اپنی اپیل واپس لینا چاہتا ہوں۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد لطیف نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی نامہ دیا ہے۔انہیں چیریٹی کا کام کرنے پڑے گا۔نوجوان کرکٹرز کو لیکچرز دیتے ہوئے ندامت کا اظہار کرنا ہوگا۔ری ہیب سے گذرنے کے بعد ان کی کرکٹ میں واپسی ممکن ہوسکے گی۔امکان ہے کہ خالد لطیف ری ہیب پراسس سے گذرنے کے بعد اکتوبر نومبر میں کرکٹ سسٹم میں واپس آسکیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…