ملک بھر میں چینی زبان پڑھانے والے چینی اساتذہ پاکستان چھوڑ گئے

  پیر‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2022  |  13:55

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)جامعہ کراچی میں 20 روز قبل خودکش دھماکے کے بعد پاکستان بھر میں چینی زبان پڑھانے والےچینی اساتذہ پاکستان چھوڑ کر واپس چین چلے گئے ہیں۔روزنامہ جنگ میں سید محمد عسکری کی خبر کے مطابق اتوار کو جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ اور این ای ڈی یونیورسٹی میں چینی زبان کی تعلیم دینے والے 11چینی اساتذہ اتوار کی دوپہر 2بجے

جامعہ این ای ڈی سے اچانک وطن واپس چلے گئے۔جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی نے بتایا کہ اچانک ہمیں دوپہر 2 بجےاطلاع ملی کہ چینی اساتذہ نے گاڑی منگوالی ہے اور وہ وطن واپس جارہے ہیں۔انھون نے کہا کہ یہ بہت بڑا نقصان ہوا ہے کہ ہمارے ڈھائی ہزار طلبہ چینی زبان پڑھ رہے تھے اور ہم نے عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چینی زبان کے دو لیول رکھے تھے جو طلبہ کے لیے لازمی تھے۔اب ہمیں شدید مشکلات ہوں گی اور آن لائن کلاسوں کی طرف جانا پڑے گا۔ انھوں نے کہا ہمیں بتایا گیا ہےکنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر جینگ شاپنگ جو اب جبوتی میں ہیں وہ آن لائن کے معاملات دیکھیں گے۔جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے پاکستانی ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر الدین خان نے بتایا کہ خود کش دھماکے کے بعد سے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں چینی زبان کی تدریس معطل ہے اتوار کو پاکستان بھرکے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کےچینی اساتذہ کے پاکستان چھوڑگئے ہیں۔انھون نے بتایا کہ جامعہ کراچی ملک کا پہلا ادارہ تھا جس نے رواں سال چینی زبان میں بی ایس پروگرام شروع کیا تھا جس میں 30 طلبہ داخل کیئے تھے جبکہ 80 طلبہ نے چینی زبان کواختیاری مضمون کے طور پر لے رکھا تھا اس کے علاوہ 250 افراد چینی زبان سیکھ بھی رہے تھے، اب ان سب طلبہ کا کیا ہوگا ہم پریشان ہیں لیکن حل تو نکالنا پڑے گا۔

آن لائن کلاسز کا ارادہ ہے جبکہ وہ پاکستانی طلباءجو اب چینی زبان سیکھ چکے ہیں ان کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ کنفیوشس انسٹیٹیوٹ اور مستقبل میں چینی اساتذہ کی عملی تدریس سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر ناصر نے کہا کہ یہ معاملہ اب جامعات کی سطح پر نہیں بلکہ سفارتی اور حکومتی سطح پر ہی حل ہوگا۔ڈاکٹر ناصر الدین نے کہا کہ اس خود کش حملے سے جامعہ کراچی کا بہت نقصان ہوا ہے حالانکہ جنگ میں اساتذہ اور طبی عملے کو نشانہ نہیں بنایا جاتا ہے سری لنکا میں جب تامل ٹائگرز حملے کرتے تھے تو وہ بھی اساتذہ اور ڈاکٹرز کو چھوڑ دیتے تھے مگر جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کو مار کر بہت خراب حرکت کی گئی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

یاد رہے کہ جامعہ کراچی میں چینی زبان سیکھانے کے لیے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر کے دور میں 2013میں قائم ہوا تھا اور چینی زبان پڑھانے کے لئے چینی اساتذہ کو جامعہ کراچی میں رہائش دی گئی تھی لیکن 20 روز قبل کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے باہر خود کش حملے میں 3 چینی اساتذہ اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد تمام چینی اساتذہ جامعہ این ای ڈی یونیورسٹی منتقل ہوگئے تھے انہیں وہاں سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا تھا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎