جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت سے ہونے والے دہشتگردی کے حملے ہمارا سب سے بڑ اچیلنج ہیں ، پاکستان

datetime 14  فروری‬‮  2022 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں ، جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ مختلف ممالک کے مندوبین سے ملاقاتوں میں انہوں نے واضح کیا کہ بھارت بین الاقوامی برادری کے سامنے خود کو دہشت گردی سے متاثر ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کر رہا ہے جس کا پاکستان نے موثر طریقے سے مقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج دہشت گرد حملے ہیں جن کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت بھارت کررہا ہے جن میں سے بعض حملے افغانستان کی سرزمین سے بھی کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی فعال حمایت سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے کے دہشت گرد گروہ پاکستان میں فوجی اور شہری اہداف کو سرحد پار سے کئی دہشت گرد حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے بتایا کہ 2014 سے دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس کے باوجود ہم نے اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کا صفایا کر دیا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت وہ ملک ہے جہاں ایک ایسی پاپولسٹ حکومت موجود ہے جسے مذہبی استثنا اور دیگر مذہبی اور اقلیتی برادریوں کے لیے نفرت کے ایجنڈے کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کو ’’اچھوت‘‘سمجھتی ہے جو مساوات اور انسانی حقوق کے ہر اصول کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کی طرف سے مانگی گئی آزادی کو دبانے کی مہم کو ’’حتمی حل‘‘ کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ اور انہیں خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر غلط معلومات اور جعلی خبروں کی ایک مشترکہ مہم کے ذریعے استعمال کر کے بھارت پڑوسی ممالک کو خطرناک طور پرغیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…