مری، سڑک پر برف پھینک کر رقم بٹورنے والے ملزم کی ضمانت منظور

  بدھ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2022  |  17:09

مری (مانیٹرنگ ڈیسک ، آن لائن)مری میں سڑکوں پر برف پھینک کر سیاحوں سے معاوضہ بٹورنے والے ملزم کی ضمانت منظور ہوگئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزم ثاقب عباسی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ نواز اشرف کی عدالت میں پیش کیا، ملزم کے وکیل کی جانب سے عدالت میں درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی۔عدالت نے ملزم ثاقب عباسی کی

ضمانت27 ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کی۔اس موقع پرملزم کو ساتھ لانے والے تفتیشی افسر نے صحافیوں کو ملزم کی وڈیو بنانے سے روک دیا۔یاد رہے کہ سانحہ مری کے دوران شاہراہوں پر برف پھینک کر رکاوٹیں بنانے والے نامعلوم افراد کے خلاف مری پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔دشوار گزار راستوں پر رات کی تاریکی میں خود برف پھیلانے والے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا۔ مقدمہ سیاحوں کو نکالنے میں مدد کے نام پر بلیک میل کرکے رقوم ہتھیانیکی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔مقدمہ پولیس کے اے ایس آئی محمد رمضان کی مدعیت میں درج ہوا جس کے مطابق نامعلوم ملزمان بھوربن روڈ پر برف پھینک کر پھسلن پیدا کرتے تھے، پھر پھنس جانے والی گاڑی کو جیپ سے نکالتے تھے۔یہ ملزمان برف اور پھسلن میں پھنس جانے والوں سیاحوں سے 4 سے 5 ہزار وصول کرتے تھے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے لیکن کوئی ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوا۔مری میں پھنسے ایک سیاح نے تمام صورتحال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق بھوربن روڈ پر نیلے رنگ کی جیپ پر نامعلوم مقامی افراد نے از خود برف بکھیری۔ سیاح کی گاڑی برف میں پھنس جاتی ہے تو وہ افراد جیپ سے ٹو کرکے نکالنے کے پانچ ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک پر پھیلائی گئی برف سے شاہراہ پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎