سپریم کورٹ نے کینٹ بورڈز کو نجی سکولز سیل کرنے سے روک دیا

5  جنوری‬‮  2022

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ علاقوں سے نجی سکولز کی بے داخلی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دور ان کینٹ بورڈز کو نجی سکولز سیل کرنے سے روک دیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز کو نوٹس جاری کر تے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔ بدھ کو دور ان سماعت وکیل قلب حسن نے کہاکہ کینٹ بورڈز میں 8300 نجی سکولز اور 37 لاکھ

بچے زیر تعلیم ہیں۔ وکیل نجی سکولز نے کہاکہ سکولوں کو سیل کیا جا رہا ہے، بچے کہاں جائیں گے۔ قلب حسن شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نجی سکولز کو سنے بغیر فیصلہ دیا تھا۔ وکیل والدین حامد خان نے کہاکہ اصل کیس تو رہائشی پلاٹ پر سکول بنانے کا تھا، ایک سول کیس میں موقف سنے بغیر سخت حکم جاری کیا گیا۔عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ابرار صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے کہاکہ سپریم کورٹ کے مشکور ہیں جنہوں نے تعلیم جیسے اہم شعبے کو ریلیف دیا،عدالت کی وجہ سے لاکھوں بچے اور اساتذہ کے مسائل حل ہونے جا رہے ہیں،تعلیم بنیادی مسئلہ ہے ،عدالت سے امید ہے وہ میرٹ کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ دوسری جانب کاشف مرزا نے اپنے بیان میں کہاکہ تعلیم دینااور تعلیمی اداروں کو آئین کے آرٹیکل 18,24اور 25ـA آرٹیکل کے تحت آئینی حق اور تحفظ حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر کے 42کنٹونٹمنٹ بورڈز میں 30ہزار پرائیویٹ سکولز، 4 لاکھ اساتذہ 40لاکھ طلباکو زیور تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔

کاشف مرزا نے کہاکہ حکومت کنٹونٹمنٹ بورڈزایکٹ میں ترمیم کرکے والدین، اساتذہ اورطلباء کی تشویش کا ازالہ کرے۔ کاشف مرزا نے کہاکہ 30ہزار پرائیویٹ سکولز کی بے دخلی سیآوٹ آف سکولز بچوں میں خطرناک اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ بے دخلی کا فیصلہ مستقل واپس لیا جائے،چیف جسٹس، وزیراعظم، آرمی چیف کنٹونمنٹ ایریاز سے سکولز کی بیدخلی رکوائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھرکنٹونٹمنٹ بورڈزحکام کے پاس تعلیم کامتبادل نظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیدخلی کی وجہ سے مزید40 لاکھ بچے سکول چھوڑ کرآؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد 3کروڑ ہوجائے گی۔

موضوعات:



کالم



اللہ کے حوالے


سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…

شاہ ایران کے محلات

ہم نے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

امام خمینی کے گھر میں

تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا…

تہران میں تین دن

تہران مشہد سے 900کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہٰذا…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…