ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

حماد اظہر نے ایک بار پھر گیس بحران کا ذمہ دار (ن)لیگ کو ٹھہرادیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے ایک بار پھر گیس بحران کا ذمہ دار (ن)کو ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ مسلم لیگ (ن) نے مہنگے توانائی کے منصوبے لگائے، ملک میں بڑھتے گردشی قرضے بھی (ن) لیگ حکومت کا شاخسانہ ہیں،ماضی میں ایل این جی مہنگے داموں درآمد کی جاتی رہی۔ پیر کو مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دو رہنمائوں نے پریس کانفرنس کی اور ایک مرتبہ پھر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کاش مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ان دو رہنمائوں کو کوئی تعلیم بالغان دیتا اور ان کو یہ سمجھاتا کہ نئے اور ضرورت سے زیادہ بجلی گھر لگانے سے پرانے بجلی گھروں کا کرایہ ختم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ جتنے بھی بجلی گھر لگائے جائیں گے تو پھر چاہے ان کو چلایا جائے یا نہ چلایا جائے ہر سال ان کا کرایہ ادا کرنا پڑے گا اور صارف پر اس کا بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں بجلی گھروں کا کرایہ 180 ارب روپے تھا جو کہ مسلم لیگ (ن) کے کئے گئے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے اب بڑھ کر 800 ارب روپے سالانہ ہو چکا ہے جو آئندہ چند سالوں میں بڑھ کر 2500 ارب روپے سالانہ تک پہنچ جائے گا۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے مہنگے بجلی گھر نہیں لگائے اور ان کی مینجمنٹ اتنی اچھی تھی تو ان کے دور حکومت میں گردشی قرضے صفر سے 1200 ارب روپے تک کیسے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پرانے بجلی گھروں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ان کا ریٹ کم کیا، بہت سے پرانے بجلی گھروں کو بند کیا، ہم نے قطر کے ساتھ سب سے سستے ریٹ پر ایل این جی کا معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مسلم لیگ (ن) کئے گئے غلط فیصلوں کا بوجھ ابھی بھی موجود ہے، اسی کی وجہ سے کبھی کبھی بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہر آنے والے سال میں 200 سے 300 ارب روپے بجلی گھروں کے کرایہ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…