پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کوپاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا،افغانستان کی صورتحال پر خطاب کی اجازت نہ ملنا افسوسناک ہے، پاکستان

datetime 7  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے افغانستان کی صورت حال پر سلامتی کونسل میں ہونے والے اجلاس میں خطاب کی اجازت نہ ملنے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کوپاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کا قریب ترین ہمسایہ ملک ہے

اور پاکستان کا افغان امن عمل میں کردار پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے، اس کے باوجود پاکستان کو سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کی اجازت نہ دینا افسوس ناک ہے۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان کو اجلاس میں خطاب کی اجازت نہیں دی گئی اور دوسری طرف سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کوپاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کے نمائندے نے بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے، پاکستان ان الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ اس معاملے پر پاکستان نے اپنا مؤقف سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے رکھا ہے،پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اپنا مؤقف پہلے بھی عالمی برادری کے سامنے رکھ چکا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان واضع کرنا چاہتا ہے کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، صرف مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل ہی امن اور سلامتی کا واحد راستہ ہے، اس مقصد کے لیے بین الاقوامی برادری کے تعاون سے اور پاکستان کی مثبت کوششوں نے دوحہ امن عمل میں اہم سنگ میل حاصل کیے جس میں امریکا طالبان امن معاہدہ اور بین الافغان مذاکرات کا آغاز شامل ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونیکا وقت قریب ہے،

اس لیے پاکستان افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور بین الافغان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونیکو سنجیدگی سے دیکھتا ہے، ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام یقینی بنائیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان نے افغانستان کے

تمام متحارب فریقوں پر زور دیا ہیکہ وہ عسکریت پسندی ترک کرکے امن مذاکرات میں شامل ہوں اور ایک وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے مل کر کام کریں اور یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں سے آگاہ رہیں جو افغانستان اور خطے میں دوبارہ امن و استحکام نہیں چاہتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ ہم ایک بار پھر افغان حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ الزام تراشی سے باز رہے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے ساتھ بامقصد بات چیت کرے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…