ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

بھارت نے سنگاپور سے معذرت کر لی

datetime 20  مئی‬‮  2021 |

نئی دہل (این این آئی) کورونا کے مبینہ سنگاپور ویریئنٹ کے حوالے سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایک ٹوئٹ کیا تھا۔ سنگا پور نے اس پر بھارتی سفیر کو طلب کرلیا اور بھارتی رہنما کے اس بیان پر ‘سخت اعتراض‘ کیا۔بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اس تنازعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے

وزیر اعلی کا بیان بھارت کا بیان نہیں ہے۔ انہیں کووڈ ویریئنٹ اور سول ایوی ایشن پالیسی پر بولنے کا حق نہیں ہے اور ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے باہمی دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے سفیر کو سنگاپور حکومت کی جانب سے طلب کیے جانے کے حوالے سے بھی ایک بیان جاری کیا۔ حالانکہ سفارت کاری میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ اپنے سفیر کو کسی دوسرے ملک کی طرف سے کسی معاملے پر ناراضی ظاہر کرنے کے لیے طلب کیے جانے کی کوئی ملک باضابطہ تصدیق کرے۔کیا ہے معاملہ؟دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ سنگاپور میں کورونا کا نیا ویریئنٹ آیا ہوا ہے جو بچوں کے لیے کافی خطرناک ہے اس لیے وہاں سے فضائی سروسز بند کردینا چاہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ قسم تیسری لہر کی شکل میں پھیل سکتی ہے۔ انہوں بچوں کے لیے ویکسین کے متبادل کو ترجیحی بنیاد پر شروع کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا۔عام آدمی پارٹی کے رہنما کیجریوال کے ٹوئٹ پر سب سے پہلے بھارت میں سنگاپور کے ڈپلومیٹک مشن نے اعتراض کیا۔ سنگاپور ڈپلومیٹک مشن نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر پر دہلی کے وزیر اعلی کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’آپ کی اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ سنگاپور

میں کووڈ کا کوئی نیا اسٹرین آیا ہے۔ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ B.1.617.2 ویریئنٹ ہی کووڈ کے زیادہ تر کیسز میں موجود ہے اور حالیہ ہفتوں میں بچوں میں بھی یہی ویریئنٹ پایا گیا ہے۔سنگاپور کی وزارت خارجہ نے دہلی کے وزیر اعلی کے بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں بھارت کی ایک اہم سیاسی شخصیت کے بیان سے

سخت مایوسی ہوئی ہے جنہوں نے حقائق کا پتہ لگائے بغیر ایسے دعوے کردیے۔ سنگا پور کی وزارت صحت پہلی ہی واضح کر چکی ہے کہ ‘سنگاپور ویریئنٹ‘ نام سے کورونا کا کوئی نیا ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ حالیہ ہفتوں میں کورونا کے جو کیسز سامنے آئے ہیں ان کا پہلی بار بھارت میں ہی پتہ چلا تھا۔سنگا پور کی وزارت خارجہ نے اپنے

بیان میں مزید کہا کہ اس نے بھارتی ہائی کمشنر پی کمارن کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے بھارتی رہنما کے بیان پر ‘سخت ناراضی‘ ظاہر کی ہے۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک ٹوئٹ کرکے کہاکہ میں یہ واضح کرتا ہوں کہ دہلی کے وزیر اعلی کا بیان بھارت کا بیان نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ غیر ذمہ دارانہ بیان دینے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اس طرح کے تبصروں سے دیرینہ شراکت والی دوستی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…