اسحاق ڈار کیساتھ یہ کام نہیں کر سکتے،برطانوی پارلیمنٹری ٹیم کے اعلان سے سابق وزیر خزانہ کے سر سے بڑی مصیبت ٹل گئی

14  ستمبر‬‮  2018

لندن(آن لائن) برطانوی پارلیمنٹری ٹیم نے سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کو لندن سے بے دخل کرکے اسلام آباد کے حوالے کرنے سے متعلق آن لائن لابی پٹیشن مسترد کردی۔پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا کہ ’مفرور سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے‘۔ برطانونی پارلیمنٹری نظام کے تحت ایک شخص یا گروپ کسی بھی عوامی نوعیت کے مسئلے پر لوبی پٹیشن شروع کرتا ہے۔

اور پر 1 لاکھ دستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں زیر بحث آجاتا ہے۔تاہم برطانوی پارلیمنٹ کی ایک ٹیم پٹیشن کا جائزہ لیتی ہے اور اگر پٹیشن میں توہین آمیز مواد موجود ہو تو ایسے مسترد کرنے کا حق بھی رکھتی ہے۔جس کے بعد ٹیم ان تمام لوگوں کو بذریعہ ای میل پٹیشن مسترد کرنے کی وجہ بھی بیان کرنے کی پابند ہے۔پارلیمنٹری ٹیم نے ان تمام 80 ہزار سے زائد لوگوں کو ای میل کرکے بتایا کہ اسحق ڈار کو ملک بدر کرنے کی پٹیشن مسترد کی جا چکی ہے۔ موصول ہونے والی ای میل میں کہا گیا کہ ’ہم اس پٹیشن کو مسترد کرتے ہیں جس کو آپ نے سپورٹ کیا۔اس کی وضاحت میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ پٹیشن میں معلومات خفیہ، توہین آمیز، جھوٹی اور رسوائی پرمبنی ہے اور جو ریفرنس پیش کیا گیا وہ برطانوی عدالت میں زیر سماعت ہے۔مزید کہا گیا کہ اس صورت میں، ہم آپ کی پٹیشن قبول نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں ٹھیک سے ادرک نہیں کہ آپ برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ سے کیا چاہتے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ برطانوی حکومت سے اسحاق ڈار کو واپس پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم برطانیہ اور پاکستان کے مابین مجرم کو اس کے ملک کے حوالے کرنے کا معاہدہ نہیں ہے۔ تحویل مجرمین ایکٹ 2003 کے سیکشن 194 کے تحت خاص حالات میں مجرم کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت پاکستان کو مجرم کے تبادلے کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…