ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

اسحاق ڈار کیساتھ یہ کام نہیں کر سکتے،برطانوی پارلیمنٹری ٹیم کے اعلان سے سابق وزیر خزانہ کے سر سے بڑی مصیبت ٹل گئی

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

لندن(آن لائن) برطانوی پارلیمنٹری ٹیم نے سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کو لندن سے بے دخل کرکے اسلام آباد کے حوالے کرنے سے متعلق آن لائن لابی پٹیشن مسترد کردی۔پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا کہ ’مفرور سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے‘۔ برطانونی پارلیمنٹری نظام کے تحت ایک شخص یا گروپ کسی بھی عوامی نوعیت کے مسئلے پر لوبی پٹیشن شروع کرتا ہے۔

اور پر 1 لاکھ دستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں زیر بحث آجاتا ہے۔تاہم برطانوی پارلیمنٹ کی ایک ٹیم پٹیشن کا جائزہ لیتی ہے اور اگر پٹیشن میں توہین آمیز مواد موجود ہو تو ایسے مسترد کرنے کا حق بھی رکھتی ہے۔جس کے بعد ٹیم ان تمام لوگوں کو بذریعہ ای میل پٹیشن مسترد کرنے کی وجہ بھی بیان کرنے کی پابند ہے۔پارلیمنٹری ٹیم نے ان تمام 80 ہزار سے زائد لوگوں کو ای میل کرکے بتایا کہ اسحق ڈار کو ملک بدر کرنے کی پٹیشن مسترد کی جا چکی ہے۔ موصول ہونے والی ای میل میں کہا گیا کہ ’ہم اس پٹیشن کو مسترد کرتے ہیں جس کو آپ نے سپورٹ کیا۔اس کی وضاحت میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ پٹیشن میں معلومات خفیہ، توہین آمیز، جھوٹی اور رسوائی پرمبنی ہے اور جو ریفرنس پیش کیا گیا وہ برطانوی عدالت میں زیر سماعت ہے۔مزید کہا گیا کہ اس صورت میں، ہم آپ کی پٹیشن قبول نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں ٹھیک سے ادرک نہیں کہ آپ برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ سے کیا چاہتے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ برطانوی حکومت سے اسحاق ڈار کو واپس پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم برطانیہ اور پاکستان کے مابین مجرم کو اس کے ملک کے حوالے کرنے کا معاہدہ نہیں ہے۔ تحویل مجرمین ایکٹ 2003 کے سیکشن 194 کے تحت خاص حالات میں مجرم کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت پاکستان کو مجرم کے تبادلے کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…