بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

ایکس کی بندش کو 20 دن ہوگئے، پاکستان میں کاروباری اداروں کو نقصان

datetime 8  مارچ‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(سابق ٹوئٹر)کی بندش کو 17 فروری سے اب تک 20 دن ہوگئے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بندش سے کاروباری اداروں کو نقصان ہو رہا ہے جب کہ صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔سوشل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام ایکس کا متبادل ثابت نہیں ہو رہے۔کراچی سے سماجی شعبے میں کام کرنے والی تنطیم سیڈ وینچرز (SEED Ventures) کی شائستہ عائشہ نے گفتگو میں کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر پوسٹیں ایکس کے ذریعے کرتے ہیں اور دوسری تنظیموں اور چندہ دینے والوں سے رابطہ کرتے ہیں تو یقینی طور پر سوشل میڈیا پر ہماری رسائی میں کمی آئی ہے اور سٹریٹجک ویزیبلٹی کا ایک طریقہ ختم ہوگیا ہے۔شائستہ کے مطابق انہوں نے ایکس کی بندش سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا۔ڈیٹا رپورٹل کے مطابق پاکستان میں تقریبا 7 کروڑ 20 لاکھ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور ان میں سے 30 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایکس کے صارفین کی تعداد 45 لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا 1.9 فیصد بنتی ہے۔سوشل میڈیا ماہر ہشام سرور کا کہنا ہے کہ ایکس کی بندش کے سبب سوشل میڈیا مارکیٹنگ متاثر ہوئی ہے اور چھوٹے کاروباروں کو نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایکس کی غیرموجودگی کے سبب تشویش پیدا ہوئی ہے کیونکہ میٹا کے پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد کی تیاری میں وقت لگتا ہے۔پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ وی پی این کے ذریعے ایکس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بولو بھئی کی بانی فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ وہ بھی وی پی این استعمال کرتی ہیں کیونکہ فوری معلومات کا حصول اہم ہے۔تاہم فریحہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار سست کردی گئی ہے جس کی وجہ کنکٹ ہونے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے جب کہ خیال ہے کہ حکومت وی پی این کو بلاک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…