جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

ایکس کی بندش کو 20 دن ہوگئے، پاکستان میں کاروباری اداروں کو نقصان

datetime 8  مارچ‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(سابق ٹوئٹر)کی بندش کو 17 فروری سے اب تک 20 دن ہوگئے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بندش سے کاروباری اداروں کو نقصان ہو رہا ہے جب کہ صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔سوشل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام ایکس کا متبادل ثابت نہیں ہو رہے۔کراچی سے سماجی شعبے میں کام کرنے والی تنطیم سیڈ وینچرز (SEED Ventures) کی شائستہ عائشہ نے گفتگو میں کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر پوسٹیں ایکس کے ذریعے کرتے ہیں اور دوسری تنظیموں اور چندہ دینے والوں سے رابطہ کرتے ہیں تو یقینی طور پر سوشل میڈیا پر ہماری رسائی میں کمی آئی ہے اور سٹریٹجک ویزیبلٹی کا ایک طریقہ ختم ہوگیا ہے۔شائستہ کے مطابق انہوں نے ایکس کی بندش سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا۔ڈیٹا رپورٹل کے مطابق پاکستان میں تقریبا 7 کروڑ 20 لاکھ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور ان میں سے 30 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایکس کے صارفین کی تعداد 45 لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا 1.9 فیصد بنتی ہے۔سوشل میڈیا ماہر ہشام سرور کا کہنا ہے کہ ایکس کی بندش کے سبب سوشل میڈیا مارکیٹنگ متاثر ہوئی ہے اور چھوٹے کاروباروں کو نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایکس کی غیرموجودگی کے سبب تشویش پیدا ہوئی ہے کیونکہ میٹا کے پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد کی تیاری میں وقت لگتا ہے۔پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ وی پی این کے ذریعے ایکس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بولو بھئی کی بانی فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ وہ بھی وی پی این استعمال کرتی ہیں کیونکہ فوری معلومات کا حصول اہم ہے۔تاہم فریحہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار سست کردی گئی ہے جس کی وجہ کنکٹ ہونے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے جب کہ خیال ہے کہ حکومت وی پی این کو بلاک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…