تحریک انصاف کےاہم رکن قومی اسمبلی نے اسپیکر کو استعفیٰ نہ منظور کرنے کیلئے خط لکھ دیا

  جمعہ‬‮ 20 جنوری‬‮ 2023  |  21:52

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رکن قومی اسمبلی نے اسپیکر کو خط لکھ کر اپنا استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ناصر خان موسٰی زئی نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو خط لکھا ہے۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق خط میں ناصر خان موسٰی زئی نے اسپیکر قومی اسمبلی سے استعفیٰ منظور نہ کرنے کی استدعا کی ہے۔

ناصر خان کا کہنا ہے کہ اسپیکر آفس استعفوں کے معاملے کو اچھی طرح جانتا ہے، میرا استعفیٰ دینےکا کوئی ارادہ نہیں۔ناصر خان NA-29(Peshawar-III)سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔نجی ٹی وی اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے چند روز بعد ہی پی ٹی آئی کے مزید 35 پی ٹی آئی کے استعفے منظور کرلیے۔جمعہ کو اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 64 کی کلاز ون، قومی اسمبلی رولز اینڈ ریگولیشن 2007 کے مطابقپی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کا اطلاق 11 اپریل 2022 سے ہوگا، اراکین کے استعفے منظور کیے جانے کے بعد مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان کو ارسال کردیے گئے۔جن اراکین اسمبلی کے استعفے جمعہ کو منظور کیے گئے ان میں ڈاکٹر حیدر علی خان، سلیم رحمن، صاحبزادہ صبغت اللہ، محبوب شاہ، محمد بشیر خان، جنید اکبر، شیر اکبر خان، علی خان جدون، انجینئر عثمان خان تراکئی، مجاہد علی، ارباب عامر ایوب، شیر علی ارباب، شاہد احمد ، گل داد خان، ساجد خان، محمد اقبال خان، عامر محمود کیانی، سید فیض الحسن، چوہدری شوکت علی بھاب ،عمر اسلم خان، امجد علی خان، خرم شہزاد ، فیض اللہ، ملک کرامت علی کھوکھر، سید فخر امام، ظہور حسین قریشی، ابراہیم خان، طاہر اقبال ،اورنگزیب خان کھچی، مخدوم خسرو بختیار، عبدالمجید خان، عندلیب عباس، عاصمہ قدیر ، ملیکہ علی بخاری اور منورہ بی بی بلوچ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اپریل میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے اجتماعی استعفے دے دئیے تھے، بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے صرف 11 کے استعفے منظور کیے تھے اور کہا تھا کہ باقی ارکان اسمبلی کو تصدیق کے لیے

انفرادی طور پر طلب کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 17 جنوری کو بھی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، اس کے علاوہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا استعفیٰ بھی منظور کرلیا تھا۔اس کے علاوہ،

اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز اسمبلی کا جمعہ کو ہونے والا اجلاس بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا تھا۔اسپیکر کی جانب سے اب تک پی ٹی آئی کے 79 اراکین کے استعفے منظور کیے گئیاس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے

عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔سپیکر کی جانب سے ایک استعفیٰ شیخ رشید کا بھی منظور کیا گیا جس کے بعد مجموعی طور 80 اراکین کے استعفے منظور کیے جا چکے ہیں۔اسپیکر کی جانب سے

تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفے ایک ایسے موقع پر منظور کیے گئے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے زمان پارک میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران قومی اسمبلی میں واپسی کا اشارہ دیا تھا۔



زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎