جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

توہین عدالت کیس، اسد عمر نے غیر مشروط معافی مانگ لی، عدالت نے کیس نمٹا دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے توہین عدالت کے معاملے پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں توہین عدالت سے متعلق جاری نوٹس پر اسد عمر کے خلاف سماعت جسٹس جواد حسن نے کی، جس میں اسد عمر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔عدالت نے اسد عمر کی تقریر کی ویڈیو اور ٹرانسکرپٹ بھی طلب کیا،

عدالت نے پی ٹی آئی سے توہین عدالت کے نوٹس کا جواب بھی طلب کیا۔اسد عمر اپنے وکیل ایڈووکیٹ چوہدری فیصل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ کے موکل کہاں ہیں ان کو پیش کریں۔اسد عمر نے عدالت کے روسٹرم پر آکر اپنی تقریر پر غیرمشروط معافی مانگی اور کہاکہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ توہین عدالت کا نہیں اداروں اور ان کی شخصیات پر الزامات کا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ میری تقریر میں کسی جج کا نام نہیں تھا، میرا مقصد عدالتوں یا ججز کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آپ کا ویڈیو بیان ہے، وہ چلانا نہیں چاہتے، ہم کو اچھے سے علم ہے آپ نے کیا کہا۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے آپ کو لانگ مارچ کی اجازت دی، آپ نے عدالتوں ہی کو نشانہ بنایا۔جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 50 رائٹ ٹو موومنٹ اور 60 رائٹ ٹو ڈیموکریسی کی اجازت دیتے ہیں لیکن اداروں پر تنقید کی نہیں۔اسد عمر نے کہا کہ میرے کسی بیان سے اگر کوئی لائن کراس ہوئی تو معافی مانگتا ہوں۔عدالت نے اسد عمر کو جاری توہین عدالت نوٹس کیس نمٹا دیا۔واضح رہے کہ اسد عمر نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں پی ٹی آئی جلسے کے دوران تقریر میں ججز پر تنقید کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…