جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ریٹائرڈ و حاضر سروس پولیس افسران کے اثاثہ جات اور بنک اکائونٹس کی تحقیقات شروع، نیب شکنجہ کسنے کیلئے تیار

datetime 7  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)قومی احتساب بیورو(نیب)نے متعدد شکایات ملنے کے بعد وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں کے ریٹائرڈ و حاضر سروس پولیس افسران کے اثاثہ جات اور بنک اکائونٹس کی تحقیقات شروع کردی ہیں ۔ابتدائی طور پر سندھ پولیس کے ڈیڑھ سو افسران کی بنک اکائونٹس تفصیلات سٹیٹ بنک آف پاکستان سے

طلب کرلی گئیں ۔وفاقی دارالحکومت ، پنجاب ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پولیس افسران کے بنک اکائونٹس کی تحقیقات بھی جلد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔نیب نوٹیفیکیشن کے مطابق ابتدائی طور پر ایس ایس پی عہدہ تک رہنے والے سابق و موجودہ پولیس افسران جن میں دھنی بخش مری ، رائو ذاکر محمود ، محمد علی مروت، راجہ محمد عباس ، محمد سرفراز ، ملک محمد سلیم ، سردار الدین ، شہزادہ سلیم ، نذیر چانڈیو ، جاوید عامر یوسفزئی ، غلام فرید جٹ ، محمد سلیم خان ، سید ولایت حسین شاہ ، فیاض اختر ، رانا محمد لطیف عبدالغفار ، محمد اسحاق ، عبدالخالق مروت ، فصیح الزمان ، ارشد حسین لغاری ، شاہد علی ، نور محمد شیخ ،عبداللہ وٹو ، اسد اللہ دائود ، سرفراز عابدی ، ملک فیصل لطیف ، محمد رفیق ، محمد اسماعیل ، غلام رسول ، خالد محمود ، کرم خان لاشاری ، یعقوب سومرو، سرفراز ککزئی ، ایم گجر ، شبیر حسین ، محمد شریف ، شبیر حسین ، انوار محمود ، ندیم رائوف ، مجید خان ، لال خان ، امتیاز احمد خان ، محمد نواز ، غلام علی لاکھو ، صائمہ سعید ، محمد مٹھال ، شوکت علی ، منظور علی صدیقی ، شازیہ جہاں ، جاوید فیاض ، شگفت گل انار ، محمد آصف ، گلزار علی ٹنو ، راجہ محمد اسلم ، محمد نعیم خان ، جابر علی ، ریحان خان ، خان نواز ، جاوید سکندر ، محمد عرفان ودیگر شامل ہیں ۔نوٹیفیکیشن کے

مطابق مذکورہ پولیس افسران کی فارن اور پاکستان میں بنک اکائونٹس سے متعلق سٹیٹ آف پاکستان سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں تاکہ ان افسران کیخلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کی جاسکے ۔دوسری جانب نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوچکی ہیں جس کے پیش نظر انہوںنے یہ کارروائی کرنے کافیصلہ کیا ، ابتدائی طورپر سندھ بعد ازاں وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران و ان کے خاندان اثاثہ جات اور بنک اکائونٹس سے متعلق معلومات لی جائیں گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…