عائشہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ میری بیٹی ہے ڈاکٹر عائشہ کی تقرری میرٹ پر ہوئی، کیا برطانیہ میں میری سفارش تھی؟یاسمین راشد کا انگلیاں اٹھانے والوں سے سوال

  ہفتہ‬‮ 27 فروری‬‮ 2021  |  10:43

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے ایک بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں فیٹل میڈیسن کے شعبے میں کام کرنے والی ڈاکٹر عائشہ علی کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری کردی گئی۔روزنامہ جنگ میں رئیس انصاری کی شائع رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عائشہ نے لاکھوں کی تنخواہ چھوڑ کر اپنے ملک میں خدمات انجام دینےکا فیصلہ کیا تھا، ان کی تقرری پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کنگ ایڈورڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ سینڈیکیٹ اور بورڈ کی منظوری کے بعد ڈاکٹر عائشہ کی تقرری میرٹ پر ہوئی ہے اور ڈبل فیلو


شپ رکھنے والی یہ واحد امیدوار تھیں۔دوسری جانب ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری میرٹ پر ہوئی ، باہر سے ڈاکٹر واپس پاکستان آکر خدمت کرنا چاہیں تو ان کو خوش آمدید کہنا چائیے، انہیں اپنی تقرری کے بارے میں مختلف باتیں سن کر دل آزاری ہوئی ۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی میں گائنی کے اسپیشلائز شعبوں میں چار ڈاکٹروں کو رکھنے جانا تھا، دو میں موزوں امیدوار نہیں ملے جبکہ ان کی بیٹی کے ساتھ ایک اور ڈاکٹر کی تقرری بھی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عائشہ کی میرٹ پر تقرری ہوئی ہے، کیا برطانیہ میں ایم آر سی او جی کرنے اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے ایک بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں بھی میری سفارش تھی؟پتہ نہیں اس بات کو اسکینڈل بنانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے،عائشہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ میری بیٹی ہے، ہمیں یہ دیکھنا چائیے کہ ڈاکٹرپاکستان آکرخدمات انجام دیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔واضح رہے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی ڈاکٹر عائشہ علیجو23 سال سے ڈاکٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں، انہوں نے 1998 میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس پاس کیا، زمانہ طالب علمی میں کئی میڈل بھی حاصل کئے، گائنی کے شعبے میں ایف سی پی ایس کرنے کے بعد ایک میڈیکل کالج میں ساڑھے تین تک پڑھاتی رہیں، پھراعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلی گئی اور وہاں ایم آر سی او جی کرنے کے بعد رائل کالج سے فیٹل میڈیسن میں تربیت لینے کے بعد برطانیہ کے ایک بڑے ہسپتال میں کام کررہی ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎