ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اورنج ٹرین میں آدھے مسافر ،پہلے ماہ 7 کروڑ بجلی کا بل آمدن انتہائی کم ، مستقبل پرسوالیہ نشان لگ گیا

datetime 31  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں اربوں روپے کی لاگت سے چلنے والی اورنج لائن ٹرین کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ کیونکہ ڈیرہ گجراں سے علی ٹائون ٹھوکر نیاز بیگ کے درمیان فراٹے بھرنے والی اورنج ٹرین میں بہت کم مسافر سفر کر رہے ہیں۔روزنامہ نوائے وقت میں

شہزادہ خالد کی شائع خبر کے مطابق روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد لگائے گئے تخمینہ کے مقابلے میں آدھی بھی نہیں ہے۔ اورنج ٹرین بجلی سے چل رہی ہے اور کروڑوں روپے بجلی کے بل کی نذر ہو رہے ہیں۔ میٹرو بس لاہور کی مد میں 1 ارب 13 کروڑ روپے سالانہ جبکہ اورنج لائن ٹرین کے اخراجات 5 ارب روپے سالانہ کے قریب ہیں۔ اس طرح دونوں منصوبوں کی مد میں مجموعی طور پر 23 ارب روپے کے نقصان کے مقابلے میں حکومت کو صرف 5 ارب روپے کی آمدنی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں اورنج لائن ٹرین نے پہلے ہی ماہ شدید نقصان اٹھایا جو تاحال جاری ہے۔ ماس ٹرانزٹ کمپنی صفائی کی مد میں سالانہ 43 کروڑ 26 لاکھ روپے خرچ کرے گی۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کو چلانے کے لئے سالانہ 5 ارب 62لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین نے پاکستان کی پہلی الیکٹرک ٹرانسپورٹ ہونے کا اعزاز توحاصل کر لیا لیکن پہلے ہی ماہ میں اورنج لائن ٹرین کو سات کروڑ کا

بجلی کا بل آ گیا۔ اورنج ٹرین پر تقریبا ًاڑھائی لاکھ مسافر روزانہ سفر کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے لیکن ایک لاکھ بھی سفر نہیں کر رہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اورنج ٹرین اسی طرح چلتی رہی اور آمدن اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم رہی تو اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ضرور لگے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…