جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خدا کو مانو ہمیں تو بخشو، کچھ ذمہ دار پاکستانی جب چین گئے تو چینی حکومت نے انہیں کیا کہا ، محمود اچکزائی کا حیران کن دعویٰ

datetime 13  جنوری‬‮  2021 |

لورالائی (آن لائن) اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما اورپشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور چین بھی ہم سے شاکی ہے۔بلوچستان کے علاقے لورالائی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے،

دنیا میں دن بہ دن تنہا ہوتا جا رہا ہے اور قریبی دوست دور ہوتے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک سے زیادہ ذمہ دار پاکستانیوں نے کہا کہ ہم چین گئے تھے اور انہوں نے کہا کہ خدا کو مانو ہمیں تو بخشو، ہمارے تاتاریوں کو بھی وزیرستان میں جگہ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئیں ہم اپنی فوج کے ساتھ بات کریں اور فوج سے کہیں کہ سیدھی سادھی بات ہے کہ کیا یہ ملک فوج کے لیے ہے یا یہ فوج ملک کے لیے ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر یہ فوج ملک کے لیے ہے تو دنیا جہان کی افواج کو جو بھی مراعات ملتی ہیں ہم اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر وہ مراعات اپنی فوج کو دیں گے اور ان کی ایجنسیوں کو بھی بہترین ایجنسیاں بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سول اورفوجی ایجنسیوں آئی ایس آئی، ایم آئی کو بھی بہترین ایجنسیاں بنائیں گے لیکن سیاست میں ان کی مداخلت نہیں ہوگی جو آئین کہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…