اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بعد دُبئی کے حکمران شیخ بن راشد المکتوم سمیت شاہی خاندان کے 7 افراد کو’ ’تلور ‘‘کے شکار کی اجازت ، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے منظوری دیدی گئی

datetime 12  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /آئن لائن )حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے افراد کو تلور کے شکار کی خصوصی اجازت دیدی ہے۔ جن شخصیات کو یہ اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں ان میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد بھی شامل ہیں۔پاکستان کی جانب سے رواں سال کیلئے صرف 6 اماراتی شخصیات کو ہی یہ اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں۔

نجی ٹی وی رپورٹس کے مطابق ان افراد میں شیخ محمد بن راشد المکتوم، دبئی کے ولی عہد، دبئی پولیس کے نائب سربراہ، آرمی افسر اور دیگر تین افراد شامل ہیں۔نجی ٹی وی نیو کی رپورٹ کے مطابق تلور کے شکار کے یہ اجازت نامے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی اجازت کے بعد جاری کئے گئے ہیں اور انھیں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستانی شہریوں یا مقامی افراد کو تلور کے شکار کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔دوسری جانب پنجاب کابینہ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پنجاب کے دوران سکیورٹی کے لئے رینجرز کے 280اہلکار تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ روزنامہ جنگ میں آصف محمود کی شائع خبر کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان جنوبی پنجاب میں لیہ اور بھکر کے علاقوں میں شکار کھیلنے کے لئے آرہے ہیں۔ان کے ہمراہ سیکیورٹی کے لئے سعودی فورسزکے 500 اہلکار بھی ہوں گے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ 15جنوری تک متوقع ہے تاہم سعودی حکومت کی طرف سے تاحال حتمی تاریخ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔گورنر تبوک بھی ان کے ساتھ آرہے ہیں، محکمہ داخلہ پنجاب نے کابینہ سے منظوری کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کو رینجرز کی دو کمپنیوں کی تعیناتی کے لئے درخواست بھجوا دی ہے۔ رینجرز تعیناتی کی منظوری صوبائی کابینہ سے بذریعہ سرکولیشن کروائی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے سعودی ولی عہد کو پاکستان میں تلور کے شکار کے لئے خصوصی پرمٹ گزشتہ ماہ جاری کئے تھے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے 11 افرا تلور کے شکار کیلئے شیخ خلیفہ سیف النہیان اور سلطان سعید احمد کی سربراہی میں خصوصی طیارے کے ذریعے مکران ڈویژن کے علاقے پنجگور میں پہنچ گئے جہاں انہیں سخت سیکیورٹی میں بذریعہ روڈ پیری جھلک میں ان کے محل پہنچایا گیا۔اس سے قبل ایئرپورٹ پر شاہی وفد کا استقبال پنجگور کے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی، قبائلی عمائدین حاجی

عطا اللہ بلوچ، حاجی زاہد حسین، حاجی فاروق الزمان اور سینئر عسکری اور سویلین حکام نے کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ شکار کے لیے آئے وفد کے پاس شکاری ساز و سامان اور شاہین موجود ہیں جبکہ وہ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری لائسنس کے تحت پنجگور میں قیام کے دوران تلور کا شکار کریں گے۔اماراتی شاہی خاندان کے افراد جو اس پرندے کے شکار کے لیے پنجگور آتے رہتے ہیں انہوں نے اس ضلع میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں۔جس میں پنجگور کے علاقے کے مستحق اور پسماندہ لوگوں کے لیے پانی کی فراہمی کی اسکیم اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…