بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ق لیگ کا کھانا نہ کھانا ’’اظہار خفگی‘‘ جبکہ ووٹ دینا ’’اظہار مجبوری‘‘ ہے،حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی کب بجے گی؟ حافظ حسین احمد بھی کھل کر بول پڑے

datetime 29  جون‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی تب بجے گی جب اپوزیشن ملکر گھنٹی بجائے گی، اب تک تو اپوزیشن میں دور دور تک سنجیدگی نظر نہیں آرہی، ق لیگ کا کھانا نہ کھانا ’’اظہار خفگی‘‘ جبکہ ووٹ دینا ’’اظہار مجبوری‘‘ ہے، اپوزیشن جب تک سنجیدہ اور یکجا نہیں ہوگی صورتحال یہی رہے گی، اے پی سی اگلے بجٹ سے پہلے ہوسکتی ہے

اس سے پہلے ممکنات نہیں ہیں، موجودہ صورتحال میں ٹائمنگ کی اہمیت ہے اور اپوزیشن ٹائمنگ کو اہمیت نہیں دے رہی۔ پیر کے روز اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جو موجودہ صورتحال سامنے آرہی ہے وہ ہمارے سابقہ تجربات کی ہی طرح ہیں اس لیے جب تک مصلحت اور مصالحت سے بالاتر ہوکر اپوزیشن یکجا نہیں ہوگی تو اس کے بغیر صورتحال تبدیل ہوتے نظر نہیں آرہی، انہوں نے کہا کہ اے پی سی کے متعلق جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ جب تک میاں شہباز شریف مکمل شفایاب نہیں ہونگے اس وقت تک اس کا انعقاد ممکن نہیں تو لگتا ہے کہ اگلے بجٹ سے پہلے اے پی سی ہوگی لیکن اس سے پہلے اس کے ممکنات نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے تلخ تجربات ہیں اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی تک بعض جماعتوں کی جانب سے وہی انداز اپنایا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لانے والے جب تک اس کے ساتھ ہیں اور اپوزیشن کی طرف سے ڈھیلا پن اور تاخیر نظر آئے گی تو یقینا صورتحال تبدیل نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ بجلی، چینی، پیٹرول، گندم جیسے اسکینڈلز اور پی آئی اے جیسے اشوز ایسے ہیں کہ جن پر گئی گذری اپوزیشن بھی اپنا رول بھرپور انداز میں سامنے لاسکتی ہے لیکن ابھی تک جو صورتحال ہے اس سے لگتا ہے کہ کچھ جماعتوں کے رہنما سامنے نہیں آنا چاہتے اپوزیشن سنجیدہ نہیں اور دور دور تک اپوزیشن کی سنجیدگی نظر آرہی اس وقت جو صورتحال ہے اس میں ٹائمنگ کی اہمیت ہے مگر اپوزیشن ٹائمنگ کو اہمیت نہیں دے رہی جس کا خمیازہ وہ بھگت رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ق لیگ نے کھانے کا بائیکاٹ کرکے ثابت کردیا کہ ان کا کھانا نہ کھانا ’’اظہار خفگی‘‘ اور ووٹ دینا’’ اظہار مجبوری‘‘ ہے کیوں کہ انہوں نے ووٹ کے لیے کسی اور سے وعدہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…