جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے بعد پاکستان کو ایک اور آفت کا سامنا ،ہر طرف تباہی کے مناظر،کئی گھروں میں قیامت صغریٰ

datetime 7  اپریل‬‮  2020 |

گجرات( آن لائن )پوری دنیا کی طرح اس وقت پاکستان پر بھی مشکل کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس نے اس وقت پاکستان میں بھی اپنے قدم جمائے ہوئے ہیںجس کے بعد لوگوں میںاس کا خوف پایا جا رہا ہے۔ لیکن اب ایک اور آفت نے پاکستان کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے زمیندارہ ٹوٹ گیا ہے جس کے بعد اونچے درجے کے سیلاب نے کئی ایکڑ پر تیار گندم کی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ تقریبا ًایک ہزار سے زیادہ ایکڑ کی زمین پر گندم تیار تھی جس کو سیلاب نے تباہ کر دیا ہے۔ مقامی کچھ گائوں کے کاشتکاروں نے مجموعی طور پر کاروبار کرنے کے لئے یہ گندم اگائی تھی۔ عموماً کاشتکاروں کا ذریعہ آمدن یہی ہوتا ہے کہ وہ کوئی فصل اگاتے ہیں اور اس کو بیچ کر سارا سال اپنے گھر کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔لیکن دریائے چناب میں سیلا ب آنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو کافی مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پوری کی پوری فصل تباہ ہونے کے بعد کاشتکاروں میں پریشانی دیکھی گئی ہے کیونکہ یہ فصل ان کے لئے روزگار تھی۔ پورے پاکستان میں اس وقت غذائی قلت کا سامنا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ہر قسم کے کاروبار کو روک دیا گیا ہے ۔ معاشرے کا ایک بہت بڑا حصہ اس سے متاثر ہوا ہے۔ مزدوروں اور کاشتکاروں کا شمار اس طبقے سے ہوتا ہے جو اس لاک ڈاون سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔اس کے علاوہ جو گندم ضائع ہوگئی ہے، وہ نہ جانے کتنے افراد کے گھروں میں جانی تھی۔ اس مشکل وقت میں پاکستان کو بہت سی مشکلات کا پہلے سے ہی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اب دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے زمیندارہ ٹوٹ گیا ہے جس کے بعد اونچے درجے کے سیلاب نے کئی ایکڑ پر تیار گندم کی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ تقریبا ایک ہزار سے زیادہ ایکڑ کی زمین پر گندم تیار تھی جس کو سیلاب نے تباہ کر دیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…