وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی، تفتیش کیلئے 13 پہلو بھی بتا دیے گئے

  جمعہ‬‮ 21 فروری‬‮ 2020  |  22:57

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کردی۔جمعہ کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کے علاوہ دیگر اراکین میں‘انٹیلی جنس بیورو کا نمائندہ جوبنیادی اسکیل 20 یا 21 سے کم نہ ہو اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انسدادی بدعنوانی پنجاب’شامل ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے‘سربراہ کسی اور کو بھی رکن مقرر کرسکتے ہیں۔کمیٹی کو


تحقیقات کیلئے 13 پہلو بتادئیے گئے ہیں جن کی تفتیش کرکے رپورٹ مرتب کی جائے گی اور ان کے علاوہ کوئی اور وجہ سامنے آئے تو اس کی تحقیقات کا بھی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے تفتیش کیلئے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا رواں برس چینی کی پیداوار گزشتہ برس کے مقابلے میں کم تھی، کیا کم پیداوار ہی قیمت میں اضافے کی وجہ تھی۔کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ تفتیش کرکے کہ‘کیا کم ازکم قیمت کافی تھی اور تیسرا سوال دیا گیا ہے کہ کیا شوگر ملوں نے گنے کو مہنگا خریدا، اگر ہاں تو اس کی وجوہات معلوم کی جائیں۔چوتھا سوال یہ ہے کہ شوگر ملوں نے چند ہفتوں کے مختصر مدت کے دوران کسانوں سے گنا نہیں خریدنے کی کیا وجہ تھی اور کیا اس کے اثرات چینی کی قیمتوں پر پڑے۔چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق پانچواں سوال ایکس مل پرائس کی بنیاد کے حوالے سے ہے اور چھٹے نمبر پر کہا گیا کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ کیا شوگر ملوں کی جانب سے مارکیٹ میں کوئی ردوبدول کیا گیا اگر جواب مثبت ہوتو اس کی تفصیلات دی جائیں۔کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ چینی کی قیمتوں پر معاہدوں کے اثرات اور کسی قسم کا مشکوک عمل شامل ہوا ہو تو سامنے لایا جائے۔اعلامیے میں شامل آٹھویں سوال میں کمیٹی کو تحقیق کیلئے بتایا گیا کہ چینی کی ایکس مل اور اضافہ شدہریٹل پرائس کے درمیان فرق کوئی فرق ہے اگر جواب ہاں میں لے تو اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں کا تعین کیا جائے۔کمیٹی چینی کی ایکس مل اور ریٹل سطح پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات کی تحقیقات کرے گی دسواں سوال ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے ہے کہ کیا ذخیرہ اندوزی ہول سیل یا ریٹل سطح ہوئی یا شوگر ملوں میں گزشتہ برس کے اسٹاک پر ہوئی۔وزیراعظم کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کوتحقیق کے لیے بتایا گیا کہ کیا چینی کی برآمد ٹھیک تھی، چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی دی گئی، اس کے اثرات اور فائدہ اٹھانے والوں کا تعین کیا جائے۔کمیٹی سے کہا گیا کہ چینی کی قیمتیں کس بنیاد پر مقرر ہوئیں اس کی بھی تحقیق کی جائے اور قیمتوں میں اضافے میں مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومتی اداروں اور نجی شعبے کا کیا کردار تھا اس کے ساتھ ساتھ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیےوقت پر لیے گئے حفاظتی اقدامات اور اگر کسی اسٹیک ہولڈر کی جانب سے گڑ بڑ کی گئی ہو تو اس کی بھی تحقیق کی جائے۔چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کو کہاگیا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے سے دیے گئے سوالات کے علاوہ کوئی اور مسئلہ جڑا ہوتو اس کو بھی سامنے لایا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ کمیٹی ذمہ داروں کی شناخت اور کردار واضح کرے اگر کسی کوانفرادی طور پر یا ادارے اور افسر بشمول نجی فریق کو حاصل ہونے والے منافع کو بھی واضح کیا جائے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ‘مستقبل میں کارروائی کے لیے تجاویز بھی دی جائیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 22 جنوری کو ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی ہی سربراہی میں گندم اور آٹے کے بحران کی تحقیقات کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ پیش کردی تھی۔کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں محکمہ انسداد کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے گریڈ 20 یا اس سے زائد کا کوئی افسر اور کمیٹی کے سربراہ کا منتخب کردہ کوئی رکن شامل ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے 7 فروری کو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی کی برآمدات پر پابندی اور نجی شعبے کی جانب سے3 لاکھ ٹن درآمد کرنے کی اجازت دے دی تھی۔پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ملک سے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے بعد وزیر اعظم نے اس کی برآمدات پر پابندی عائد کی۔سمری کو منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ سفید چینی کو نجی شعبے کی جانب سے بغیر ٹیکسز اور ڈیوٹی کے درآمد کیا جائے گا جبکہ درآمدکنندگان کیوفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کسی قسم کی مالی مدد نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ چینی کی قیمتیں گزشتہ دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی تھیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر اتنی توجہ نہیں دی تھی جس کی وجہ سے منافع خوروں کو فائدہ پہنچا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ای سی سی میں معاملہ جانے سے قبل ہی سمری کی منظوری دی تاکہ 3 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی برآمد فوری روکی جاسکےاور 3 لاکھ ٹن چینی نجی شعبے کے ذریعے درآمد کی جاسکے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے درمیان پاکستان نے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی برآمد کی۔2017-18 کے درمیان چینی کی فی کلو قیمت تقریباً 53 روپے 75 پیسے تھی جبکہ 17-2016 میں 61 روپے 43 پیسے، 16-2015 میں 64 روپے 3 پیسے اور 15-2014 میں 58 روپے 91 پیسے تھی۔واضح رہے کہ چینی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو اضافے کا مطلب صارفین سے 5 ارب 10 کروڑ روپے کا منافع ہوتا ہے۔مقامی سطح پر سالانہ چینی کا استعمال 51 لاکھ میٹرک ٹن سے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک ہوتا ہے۔اسٹیک ہولڈرز اور سینئر حکام کے انٹرویو سے دیگر متعدد مسائل بھی سامنے آئے جن کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو8 سال بعد چینی درآمد کرنی پڑ سکتی ہے۔گزشتہ 3 ہفتوں میں چینی کی قیمت عالمی منڈی میں 418 ڈالر سے 350 ڈالر فی ٹن رہی جو ظاہر کرتی ہے کہ اگر حکومت تمام ڈیوٹی اور ٹیکسز اس کی درآمد پر سے ہٹادے تو کراچی پورٹ پر چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو ہوگی جبکہ اس کی ملک کے دیگر حصوں میں ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کی لاگت اس میں الگ سے شامل کی جائیگی۔اسٹیک ہولڈرز اور حکام کے انٹرویو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حکومت نے بجٹ میں مقامی چینی کی قیمتوں میں سیلز ٹیکس کو 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردیا تھا جبکہ سیلز ٹیکس کو واپس لینے سے چینی کی قیمتیں مقامی مارکیٹ میں کم ہوسکتی ہیں تاہم اس تجویز پر حکومت غور نہیں کر رہی۔


موضوعات: