پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تنخواہ دار طبقے کیلئے خودکار ٹیکس فائلنگ کا نظام متعارف

datetime 15  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا ایک نیا اور سہل طریقہ متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے اب یہ عمل خودکار طریقے سے مکمل ہوگا۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس نظام کے تحت ایک انٹرایکٹو ریٹرن فارم دستیاب ہوگا جو خریداریوں، اثاثوں، آمدن اور ٹیکس کٹوتیوں سے متعلق معلومات ازخود حاصل کر کے مکمل فارم تیار کرے گا۔

اس وقت یہ فارم صرف انگریزی زبان میں دستیاب ہے تاہم اردو زبان میں اس کا ورژن رواں ماہ کے آخر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، ابتدائی مرحلے میں یہ فارم سندھی اور پشتو زبانوں میں بھی فراہم کیا جائے گا، جبکہ پنجابی اور بلوچی ترجمے بھی جلد متعارف کروائے جائیں گے۔اس جدید ڈیجیٹل سسٹم میں کل 8 مراحل شامل ہیں، جن میں ہر مرحلہ صارف سے مخصوص معلومات حاصل کرے گا اور رہنمائی فراہم کرے گا۔ مثال کے طور پر، پہلے مرحلے میں جب صارف اپنے آجر کا نام درج کرے گا تو اس کی تنخواہ پر کٹوتی شدہ ٹیکس کی تفصیلات خودکار طور پر ظاہر ہو جائیں گی۔اسی طرح، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر درج کرنے سے اس فرد سے منسلک تمام ودہولڈنگ ٹیکسز بھی خود بخود فارم میں شامل ہو جائیں گے۔

بینک اکاؤنٹ کی معلومات دینے پر وہاں موجود رقم کی تفصیلات بھی ریٹرن فارم میں ظاہر ہو جائیں گی، جب کہ شناختی کارڈ سے جڑی خریداریوں کا ریکارڈ بھی خودکار طور پر شامل ہو گا، جس سے صارف کو دستی طور پر معلومات داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس ریٹرن کا عمل شہریوں کے لیے آسان اور قابلِ فہم بنایا جائے۔ انہوں نے اردو زبان میں ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کے جلد نفاذ پر بھی زور دیا، اور کہا کہ ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام ٹیکس دہندگان کو جن کا ریفنڈ 50 ہزار روپے سے کم ہے، ایک ماہ کے اندر ادائیگیاں یقینی بنائے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے 10 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے ایف بی آر کو ایک مؤثر ہیلپ لائن قائم کرنے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو فائلنگ کے دوران فوری رہنمائی میسر آ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…