اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

صرف تلاوت کی اجازت دینگے اس کے بعدکسی وزیر یا سپیکرکوبولنے نہیں دیاجائیگا، حکومت نے اسمبلی کومذاق اورلونڈی بنارکھاہے، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی) خیبرپختونخوااسمبلی میں سپیکراسمبلی مشتاق غنی کے رویے کے خلاف اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑاکردیا سپیکرڈائس کا گھیراؤکرتے ہوئے حزب اختلاف نے واضح کیاکہ وہ آئندہ کسی صورت اجلاس کوچلنے نہیں دینگے دوران وقفہ پی پی کی رکن نگہت یاسمین اورکزئی کا سپیکرکی کرسی پر قبضہ کرنیکی کوشش،شدیدنعرہ بازی کے باعث ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل ہوگیا۔

پیر کے روز جب سپیکرمشتاق غنی کی زیرصدارت اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ وہ سپیکرکی کرسی قابل عزت سمجھتے ہیں لیکن افسوس سپیکرصاحب خودکوبااختیارنہیں بنارہے گزشتہ اجلاس کواپوزیشن کوبلائے بغیراورگورنرکاپیغام ایوان میں سنائے بغیرسپیکرنے گھربیٹھے ملتوی کردیا جب اپوزیشن نے اجلاس دوبارہ طلب کرنے کیلئے ریکوزیشن جمع کی تو حکومت نے اعتراضات لگاکر اپنااجلاس اسی روز طلب کرلیا حکومتی رویے کے بعد اپوزیشن نے فیصلہ کیاہے کہ وہ ایوان میں صرف تلاوت کی اجازت دینگے اس کے بعدکسی وزیر یا سپیکرکوبولنے نہیں دیاجائیگا حکومت نے اسمبلی کومذاق اورلونڈی بنارکھاہے وزیراعلیٰ اور سپیکرکے معاندانہ سلوک کے باعث اراکین مفلوج ہیں اسکے ساتھ ہی تمام اپوزیشن اراکین نے سپیکرڈیسک کاگھیراؤکرلیااورشدیدنعرہ بازی کی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باعث جب سپیکر نے دس منٹ تک کیلئے اجلاس ملتوی کیا تو پی پی کی رکن نگہت یاسمین اورکزئی سپیکرکی کرسی پرجابیٹھ گئی اورایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی اہلکاروں کے کہنے پر انہوں نے سپیکرکی کرسی چھوڑ دی۔ اسمبلی ہال کے باہرمیڈیاسے گفتگومیں اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے کہاکہ سپیکرکارویہ وزیراعلیٰ سے بھی زیادہ معاندانہ ہے اپوزیشن سپیکرکیساتھ بیٹھنے کوتیار نہیں اسمبلی کی ہردن کی کارروائی شرمناک ہوتی ہے سپیکراتناکمزورہے کہ وزراء بھی انکی رولنگ کی پیروی نہیں کرتے اورایوان نہیں آتے ہم سپیکرکومضبوط کرناچاہتے ہیں

انہوں نے کہاکہ گزشتہ اجلاس ملتوی کرنا اسمبلی رولزکیخلاف ورزی ہے سپیکرنے اپنے گھر کواسمبلی ہاؤس بنایاہے سپیکرنے پچھلے اجلاس میں اپوزیشن کا ایک ایجنڈابھی نہیں لیا آئندہ جب بھی اجلاس ہوگا تواپوزیشن احتجاج کریگی اپوزیشن میں باصلاحیت اورمضبوط لوگ ہیں ہمارے ورکرزبھی ڈٹ کرکھڑے ہوناجانتے ہیں آج سپیکرکاگھیراؤکیااس کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کابھی گھیراؤکرینگے۔بعدازاں جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا

تو وزیرقانون سلطان محمد نے کہاکہ اپوزیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنااحتجاج ختم کردیں اسمبلی کورولزکے مطابق چلنے دیں پی ٹی آئی مینڈیٹ لیکرایوان پہنچی ہے لیکن افسوس اپوزیشن نے آج سپیکرکی کرسی کی توہین کی اس موقع پر سپیکرمشتاق غنی نے اپوزیشن کے رویے پر شدیدغم وغصے کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن اراکین کی زبان پرانہیں شدیدافسوس ہوا ہے اس کی قلعاًاجازت نہیں دونگا ایوان کسی فردواحد کانہیں بلکہ تمام اراکین کا مشترکہ فورم ہے جس کے بعدانہوں نے اجلاس آج بروزمنگل دوپہردوبجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…