نواز شریف کے اصل مرض کا پتہ چلانا ضروری ہے، ہماری لیبارٹریز تشخیص کرنے میں کہاں ناکام رہی ہیں؟ حکومت نے ڈاکٹر عدنان سے حیران کن مطالبہ کر دیا

  پیر‬‮ 27 جنوری‬‮ 2020  |  21:20

اسلام آباد (این این آئی)معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ڈاکٹر عدنان پر زور دیا ہے کہ وہ پلیٹلیٹس کی تازہ رپورٹ پیش کریں کیونکہ اصل مرض کا پتہ چلانا ضروری ہے، گندم بحران پر کمیٹی بنی ہے، رپورٹ سامنے آنے پر آگاہ کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیراعظم کا استقبال سیاسی پختگی اور استحکام کی علامت ہے،حکومت کاروبار اور غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کررہی ہے،سندھ کو کرپشن سے پاک کرنا ہے، سندھ کے اندر ہمارے ادارے فعال ہوں گے، کرپشن جیسے ناسور کو ختم کرنے


کے لیے سندھ حکومت بھی اپنے اداروں میں اس وڑن کو نافذ کرکے کرپشن فری ماحول بناسکتے ہیں،اتحادیوں کے حوالے سے سازشی عناصر کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے۔ پیر کو یہاں میڈیا سے گفتگو کے دوران معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم تو پلیٹلیٹس جاننا چاہتے تھے، ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ وہ دل کے مریض ہیں، دل کے مریض کا بائی پاس ہوتا ہے تو ظاہر ہے فالواپ ہوتا رہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ قوم کو ان کے پلیٹلیٹس کی موجودہ تعداد جاننا چاہتی ہے، پریس کانفرنس میں پلیٹلیٹس پر روشنی ڈال دیتے تو ابہام دور ہوجاتا ہے، یہاں تو پلیٹلیٹس کا اتار چڑھاؤ ہورہا تھا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اصل معلومات تو پلیٹلیٹس کی درکار ہیں تو ڈاکٹر عدنان سے میری گزارش ہے کہ وہ برطانیہ میں موجود ہیں وہاں جدید ترین لیبارٹری سے پلیٹلیٹس کی تازہ ترین جائزہ لے کر قوم کے سامنے پیش کردیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ہماری میڈیکل لیبارٹریز تشخیص کرنے میں کہاں ناکام رہی ہیں اور اصل مرض کا پتہ چلانا سب سے ضروری ہے۔گندم کے بحران کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کمیٹی بنی ہے اور اس کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ حقائق کو جانے اور اس کا جائزہ لے اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے جونہی اس کی حتمی رپورٹ سامنے آتے تو آگاہ کردیا جائیگا۔وزیراعظم کے دورہ کراچی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیراعظم کا استقبال سیاسی پختگی اور استحکام کی علامت ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کی ترقی کے ساتھ جڑے پاکستان کی خوش حالی کے خواب کی تکمیل کے لیے دن رات کوشاں ہیں، کاروباری افراد کا وزیراعظم پر اعتماد ہمارے ملک کی معیشت کے درست سمت پر گامزن ہونے کا واضح ثبوت ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے جوملاقات ہوئی ہے اس میں کراچی کے مختلف منصوبوں کے لیے وزیراعظم کے 162 ارب کے پیکیج اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار اور غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کررہی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو سندھ کے عوام کے لیے وہ تمام بنیادی حقوق ان کو وفاقی سطح پر فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل میں سندھ کے حصے کے مطابق ہر طرح کی پیش کش کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ترقی، قومی مفاد کے تحفظ اور عوامی خوش حالی کے ایجنڈے پر ہم سب ایک ہیں، سندھ کو مسائل اور کرپشن سے پاک کرنے اور وفاق پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے وزیراعظم کے خواب کو دہرایا گیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سندھ کو کرپشن سے پاک کرنا ہے، سندھ کے اندر ہمارے ادارے فعال ہوں گے، کرپشن جیسے ناسور کو ختم کرنے کے لیے سندھ حکومت بھی اپنے اداروں میں اس وڑن کو نافذ کرکے کرپشن فری ماحول بناسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاروباری برادری نے وزیراعظم کی ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت اور جس جرات سے پاکستان کا موقف عالمی قیادت کے سامنے رکھا اس کی تعریف کی۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو بتایا کہ عالمی اقتصادی فورم کے لیے موجودہ دورہ ماضی کے وزیراعظم کے دوروں میں سستا ترین تھا۔انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم کے ذریعے پاکستان کے عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچنانے میں جس موثر انداز سے کردار ادا کیا تمام کاروباری برادری نے اس کو سراہا اور وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کا سفر کراچی، پشاور، کوئٹہ ہو یا پنجاب ہو، پاکستان کا چپہ چپہ، آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور جہاں جہاں پاکستان سے محبت کرنے والے بیٹھے ہیں ان کے لیے خوش خبری ہے کہ پاکستان مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور یہ مایوسیوں کے بادل ختم ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے ڈیووس میں پاکستان کا ملکی مثبت تشخص اجاگر کیا۔معاون خصوصی نے کہاکہ اتحادی جماعتیں ہماری طاقت ہیں، عوامی ریلیف کے اقدامات میں انکا کردار اہم ہے، اتحادیوں کے معاملات حل کرنے کیلئے کمیٹی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اتحادیوں کے حوالے سے سازشی عناصر کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے۔

موضوعات: