اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

زینب الرٹ بل میں پھانسی کی سزا تھی، بعض پارٹیوں نے مخالفت کی، اسد عمر ننھی زینب کی برسی پر اس کے گھر پہنچ گئے

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

قصور (این این آئی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت کے مجوزہ زینب الرٹ بل میں مجرم کے لیے پھانسی کی سزا رکھی گئی تھی جس کی بعض سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی تاہم وہ خود اس سزا کی حمایت کرتے ہیں۔

قصور میں زیادتی کا شکار ہونے والی بچی زینب کی دوسری برسی کے موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر ان کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت کے مجوزہ زینب الرٹ بل میں پھانسی کی سزا تھی تاہم بعض پارٹیوں نے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی لیکن وہ ایسے کیسز میں پھانسی کی سزا کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی نظام کی اس سے بڑھ کر اور کوئی خوش قسمتی نہیں ہو گی کہ معصوم بچوں کے لیے یہ بل پاس ہوا، وفاق کے بعد تمام صوبوں میں بھی زینب الرٹ بل منظور کرائیں گے، تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ کمسن بچوں سے زیادتی کے واقعات رک سکیں، عدلیہ، پولیس اور پورا پاکستان اگر اس پر متفق ہو جائے تو ایسے واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ نہیں، ایسا لگتا ہے ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن یقین ہے وزیراعظم عمران خان پولیس بہتر کر کے دکھائیں گے، پولیس نظام کا ٹیسٹ ہے کہ غریب اوراس کا بچہ محفوظ ہو۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نئے آئی جی سے ملاقات ہوئی ہے، ان کی ابتدائی پرفارمنس پر وزیراعظم عمران خان مطمئن ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت کی ایک دوسرے پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہے، ہمیں ریاست کی ضرورت اس لیے ہے کہ کمزورکی حفاظت کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…