حکومت پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل دائر کرنے پر گومگو کا شکار ،تحریک انصاف کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟بڑا انکشاف سامنے آگیا

  منگل‬‮ 24 دسمبر‬‮ 2019  |  11:20

اسلام آباد(سی پی پی)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سابق صدر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں ملنے والی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے معاملے میں گومگو کا شکار ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نہ صرف پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ نہیں کر پا رہی بلکہ وہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے بھی دلچسپی نہیں رکھتی تاہم حکومتی عہدیدار اس سے قبل اپنے میڈیا بیانات میں حکومت کی جانب سے صدارتی ریفرنس اور اپیل دائر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ذرائع نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر قانونی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے،ذرائع نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی لحاظ سے ایسا کرنا پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کیلئے سبکی کا باعث ہو گا جو ماضی میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس چلانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔تحریک انصاف کے ایک حصہ نے کہا ہے کہ قانونی لحاظ سے حکومت کیسے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے جبکہ وہ خود اس کیس میں شکایت کنندہ ہے،دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر غداری کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تیاری کر رہے ہیں جو رواں ہفتے دائر کر دی جائے گی۔بعض حکومتی عہدیدار چاہتے ہیں کہ یہ کیس معروف وکیل مخدوم علی خان کو دیا جائے،یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ تحریک انصاف کا ایک حصہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے متعلقہ اس ہائی پروفائل کیس میں کارکردگی نہ دکھانے پر وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کے خلاف بھی متحرک ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎