تجارت کے نام پر کی جانیوالی منی لانڈنگ اب نہیں ہو سکے گی، حکومت نے اکاؤنٹ فریز کرنا شروع کر دیے، گورنر اسٹیٹ بینک کھل کر بول پڑے

  ہفتہ‬‮ 14 دسمبر‬‮ 2019  |  23:06

کراچی(این این آئی)گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقرنے کہاہے کہ مالیاتی جرائم اسٹیٹ بینک کے لئے انتہائی اہم مسئلہ ہے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں،تجارت کے نام پر کی جانیوالی منی لانڈنگ اب مشکل ہے، اس کی کڑی نگرانی ہورہی ہے، آج حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں، عالمی ادارے بھی پاکستان کی کاوشوں کو سراہا رہے ہیں، مشکل حالات کے باعث سخت فیصلے کئے ہیں،واپس لیں گے۔کراچی میں دوسری فنانشل کرائم سمٹ سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ امپورٹرز کیلئے جوفیصلہ ہوا وہ انھیں ریلیف دینے کیلئے کیا ہے،


ایکسچینج ریٹ میں ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں، جسے ہمارے حالات بہترہوں گے، ہم اپنی شرائط کو نرم کریں گے، زرمبادلہ پر دباؤ کی وجہ سے خزانہ خالی ہورہا تھا، اب معشیت بہتری کی طرف گامزن ہے۔رضا باقر نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ میں تبدیلی کافیصلہ درست تھا، فارن کرنسی اکاؤنٹ کوشہریوں نے سیونگ اکانٹ میں تبدیل کیا، اس سے معیشت کو فائدہ ہوا، کومنل معاملات کو فنانشل معاملات سے علیحدہ کرنے کیلئے اینٹی منی لانڈرنگ اورٹیرر فنانسگ پر سختی کی گئی۔انہوں نے کہاکہ ہم دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہیں ہمیں اس پر کڑی نگرانی کرنی ہے، اس سے معاملات کافی حد تک درست ہوئے ہیں ہمیں اکانومی سمیت رقوم کو ڈاکومنٹڈ کرنا ہے ہم نے دیکھا کہ رقوم دیگر کاموں میں استعمال ہوئی، ہم نے اکاؤنٹس فریز کرنا شروع کردیئے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہمیں بحیثیت قوم سخت فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، آپ اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ ایسے لگا سکتے ہیں کہ میں اور بہت سے بینک کے صدور یہاں موجود ہیں۔رضا باقر نے کہاکہ تجارت کے نام پر کی جانیوالی منی لانڈنگ اب مشکل ہے، اس کی کڑی نگرانی ہورہی ہے، دہشت گردوں کی مالی معاونت اب کسی طور قابل قبول نہیں، ہم ان تمام اسٹیک ہولڈرز کے شکر گزار ہیں کہ وہ ملکی اہم مسئلے میں ہمارے ساتھ ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومتی اقدام کے سبب سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا،ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے، لوگ سیونگز کی طرف جارہے ہیں، آج کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں، ہمارا ملک دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہوگا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کیا،ہمیں کاروبار دوست ماحول بنانا ہے،انٹرنیشنل ادارے بھی پاکستان کی کاوشوں کو سرا رہے ہیں۔رضا باقر نے کہا اسٹیٹ بینک کے لئے یہ بہت اہم مسئلہ ہے،ٹیرر فنانسنگ کو روکنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں، فنانشل سسٹم میں اس وقت ریفارمز جاری ہیں، ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لئے قوانین بنادئے گئے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ ہم نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کیا، ایف اے ٹی ایف کی 27 شرائط پر کام جاری ہے، ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لئے قوانین بنادیئے گئے ہیں، بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کی کاوشوں کو سراہ رہے ہیں۔

موضوعات: