شہباز شریف کی کرپشن،سب سامنے آگیا،اربوں روپے کی بیٹوں کے اکاؤنٹس میں منتقلی،بیوی کیلئے جائیدادوں کی خریداری،،نثار گل اور علی مہر کون ہیں؟چونکا دینے والے انکشافات

  جمعرات‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2019  |  18:39

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے 18 سوالوں کے جواب مانگ لئے۔ جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے شہباز شریف پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔شہزاد اکبر نے شہباز شریف سے 18 سوالات بھی کیے اور صحافیوں سے درخواست کی کہ آپ کو جہاں کہیں بھی شہباز شریف ملیں تو ان سے یہ سوالات ضرور پوچھئے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا نثار احمد گل وزیر اعلیٰ


کے ڈائریکٹر برائے سیاسی امور اور علی مہر ڈائریکٹر اسٹریٹجی اور پالیسی کے عہدوں پر تعینات نہیں تھے؟، کیا نثار گل اور علی مہر آپ کے فرنٹ مین نہیں تھے؟، کیا یہ دونوں کاغذی کمپنی گڈ نیچر کے مالک نہیں تھے؟، کیا نثار گل نے اپنے بینک اکاؤنٹ اوپننگ فارم میں اپنا عہدہ مشیر برائے سیاسی امور وزیراعلیٰ پنجاب اور پتہ چیف منسٹر ہاؤس نہیں لکھوایا تھا؟، کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کا ڈائریکٹر سیاسی امور نثار احمد گِل آپ کے ہونہار صاحبزادے سلمان شہباز کے ساتھ مختلف دوروں پر لندن، دبئی اور قطر نہیں گیا؟، کیا آپ کے کیش بوائز مسرور انور اور شعیب قمر نے جی ایل سی کے اکاؤنٹوں سے کروڑوں روپے نکال کر آپ کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیے؟، کیا آپ نے ان پیسوں سے تہمینہ درانی شریف کے لیے وسپرنگ پوائنٹ کے دو ولاز نہیں خریدے تھے؟سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے کیش بوائیز مسرور انور اور شعیب قمر نے جی ایل سی کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکال کے آپ کے دونوں صاحبزادوں حمزہ اور سلمان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیے؟، کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ نثار احمد گِل جو کی وزیراعلیٰ کے پولیٹیکل ڈائریکٹر تھے، ان کے اکاؤنٹ سے آپ کے دونوں صاحبزادوں کو یہ رقم منتقل نہیں کی گئی تھی؟سوال کیا گیاکہ کیا جی ایل سی سے اربوں روپے کیش نکال کر آپ کے اور آپ کے خاندان کے لیے اندرون اور بیرون ملک اخراجات کے لیے استعمال نہیں کیا گیا؟،کیا جی ایل سی نے بالواسطہ آپ کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکاؤنٹ میں 1 کرورڑ روپے جمع نہیں کروائے تھے؟سوال کیا گیاکہ کیا جی ایل سی کے مالکان کو وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعینات کر کے آپ براہ راست کالے دھن کو سفید کرنے کے اس گھناؤنے کاروبار میں سی ایم آفس سے سرپرستی نہیں کرتے تھے؟،سوال کیا گیاکہ کیا آپ کی رہائشگاہ 96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں کک بیک اور کمیشن کی رقم وصول نہیں ہوتی رہی؟ اور کیا ان رقوم کو شریف گروپ کے دفتر واقع 55 کے ماڈل ٹاؤن میں منتقل کرنے کے لیے آپ کی ذاتی بلٹ پروف لینڈ کروزر اور ایلیٹ فورس پنجاب کے اہلکار استعمال نہیں ہوتے رہے؟کیا 96 ایچ میں واقع کالے دھن کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے پورے خاندان والوں نے اپنے اکاؤنٹ، اپنے ذاتی دوستوں کے اکاؤنٹس میں لاہور کے مختلف منی چینجرز کے ذریعے جعلی ٹی ٹیز نہیں لگوائیں؟ کیا ان ٹی ٹیز کی رقوم آپ نے اپنی ذاتی رہائشگاہ 96 ایچ لاہور کی تعمیر میں خرچ نہیں کی؟ کیا دبئی کی 4 کمپنیاں جو بیگم نصرت اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں بذریعہ ٹی ٹیز رقوم منتقل کرتی رہیں، کیا یہ وہی کمپنیاں نہیں ہیں جو آصف زرداری اور اومنی گروپ کے لیے بھی منی لانڈرنگ کرتی رہیں؟ کیا دیفڈ کے دیئے ہوئے پیسے سے آپ کے داماد علی عمران نے لوٹ مار نہیں کی؟ کیا آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کی عزت بحال کرنے کے لیے آپ کب لندن کی عدالتوں میں ڈیلی میل کے صحافی، میرے دوست اور میرے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کریں گے؟۔


موضوعات: