اسلام آباد ہائیکورٹ نے اکرم خان درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ سنادیا،چیف جسٹس کا پراسیکیوٹر نیب سے مکالمہ، دلچسپ صورتحال

  جمعرات‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  22:07

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جے یو آئی کے رہنما اکرم خان درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست نمٹادی۔ جمعرات کو سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا اکرم خان درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔ جسٹس میاں گل حسن اور نگزیب نے کہاکہ ابھی چیئرمین نیب نے اکرم درانی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے،جب تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے تو کیسے ضمانت میں توسیع کریں؟۔وکیل اکرم خان درانی نے کہاکہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ باہر جاکر گرفتار


کرلیاگیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ نیب قوانین میں پلی بارگین ک قانون موجود ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ نیب کو گرفتاری کے لیے شواہد ہونث چاہئیں۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ابھی اکرم خان درانی کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ آپ روزانہ کی بنیاد پر انکو بلالیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پراسیکیوٹر نیب سے مکالمہ کیا کہ گرفتار کرکے آپ سرکاری اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں،پراسیکیوشن کے زریعے کرپشن کو روکنا ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ پلی بارگین می ملزمان کو بیان حلفی جمع کرانا ہوتا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے دو روز قبل آگاہ کردیا جائے۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ایسا قانون موجود نہیں کہ پہلے بتایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اکرم درانی نے پی ایچ اے میں غیرقانونی بھرتیاں کیں،تمام بھرتیاں بنوں سے کی گئیں بلز کہیں اور کے دئیے گئے۔ جسٹس میاں گل حسن اور نگزیب نے کہاکہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ بھرتیاں غیرقانونی ہوئی آپ پارٹی بن جائیں،آپکے پاس ایسا کیا پیمانہ ہے کہ غیرقانونی بھرتیوں کا معلوم کرسکے۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ہم رحمت اللہ کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ رحمت اللہ معاملے کو بعد میں دیکھ لیتے ہیں،آپ رحمت اللہ کو روزانہ کی بنیاد پر بلاکر انکوائری مکمل کرلیں،روزانہ کی بنیاد پر انکوائری سے بہت سی چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ جب آپکے پاس غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق تحریری شواہد ہیں تو روازنہ انکوائری میں کیا حرج ہے۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیاکہ انور سیف اللہ کیس میں کیا بنا؟،آپ نے کہا کہ آپ گرفتار نہیں کرنا چاہتے، اپکو شواہد کے لئے گرفتاری کیوں چاہئے؟ شواہد اکٹھا کرنے کے لئے آپ بندے کو روز بلائے۔دوران سماعت بانی ایم کیو ایم کا تذکرہ ہوا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بانی ایم کیو ایم پر بھی سنگین الزامات ہیں۔ عدالت نے اکرم خان درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست نمٹادی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ اکرم خان درانی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے،نیب کے جواب کے بعد عدالت نیاکرم خاندرانی کی درخواست ضمانت نمٹادی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ جمعے کے روز پورے ملک میں جلسے جلوس ہونگے،عوام کو جلد ہی خوشخبری ملے گی،عمران خان اخلاقی طور پر مستعفی ہوں۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ میں عدالتوں کے پیچھے چھپنے کا معاملہ ختم ہوا،الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ کیس کے بعد عمران خان سمیت پارٹی ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہاکہ پورے ملک کے تمامادارے حکومت سے مایوس ہیں،کسان تاجر ڈاکٹر سب احتجاج کررہے ہیں،عوام جلد ہی اچھی خبر سنے گی۔ صحافی نے سوال کیا کہ دھرنے سے کیا فائدے حاصل ہوئے اکرم درانی نے جواب دیاکہ دھرنے کا مقصد اور فایدہ جلد عوام کے سامنے آجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف جلد ہی وطن واپس آئیں گے،بیماری پر گپ شپ لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف بیمار بیوی کو چھوڑ کر وطن واپس آئے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے لوگ ابھی ٹی وی پر بیٹھ کر بیماری پر واویلا کررہے ہیں

loading...