پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

اداروں پرتنقید کی مذمت،مولانا فضل الرحمان کیخلاف کارروائی کاآغاز،نوازشریف کی بیرون ملک روانگی،وزیراعظم عمران خان نے بڑے فیصلوں کا اعلان کردیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے مولانافضل الرحمان کی اداروں پرتنقید کی شدیدمذمت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کافیصلہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا،

کسی کو اجازت نہیں دے سکتے کہ کنٹینر پر چڑھ کر مذہبی منافرت پھیلائے، ملک مذہبی منافرت اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا، نوازشریف بیمارہیں اور ان کو بہترعلاج کیلئے باہر جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کااجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔اجلاس میں ملکی سیاسی آور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔پی ٹی آئی منشور کے عمل درآمد سے متعلق حکمت عملی پر بھی مشاورت ہوئی۔کور کمیٹی ارکان نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق کورکمیٹی نے مولانافضل الرحمان کی اداروں پرتنقید کی شدیدمذمت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کافیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مولانا نے آزادی مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا،فضل الرحمان نے دھرنے سے کشمیرکاز کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف بیمارہیں اور ان کو بہترعلاج کیلئے باہر جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پرہم نے نوازشریف کیلئے ہرموقع پر سہولت پیداکی۔ انہوں نے کہاکہ کسی کو اجازت نہیں دے سکتے کہ کنٹینر پر چڑھ کر مذہبی منافرت پھیلائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک مذہبی منافرت اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے کہاکہ ہم نے پرامن احتجاج کی اجازت دی تھی، منافرت پھیلانے کی نہیں۔ ذرائع کے مطابق کور کمیٹی نے میڈیاکے امور دیکھنے کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی میڈیا کمیٹی ممبران میں فردوس عاشق اعوان، جہانگیر ترین، اسد عمر، فواد چوہدری شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…