شرح سود میں اضافہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟غربت میں کمی کیسے ہو گی؟ آئی ایم ایف میں ملازمت بارے بھی گورنر سٹیٹ بینک نے دو ٹوک اعلان کر دیا

  منگل‬‮ 12 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  18:57

کراچی (این این آئی) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا، مہنگائی بڑھنے کی وجہ کچھ خرابیاں تھیں جن پر قابو پایا جارہا ہے۔منگل کو گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے معاشی جائزہ لیا ہے، پاکستانی معیشت میں بہت بہتری آئی ہے، اسٹاک اور فاریکس مارکیٹ بہتر ہورہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ کاروبار میں آسانی کے لیے آج دو سرکلر ویب پر لگائے ہیں، درآمد پر پیشگی ادائیگی آسان کردی ہے، بیرون ملک سے


خدمات حاصل کرنے کا عمل آسان کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے استعفیٰ دے چکا ہوں، اب پاکستان کے ایک ادارے کے لیے کام کرتا ہوں۔رضا باقر نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے معیشت کو سنگین مسائل درپیش تھے، افراط زر کم ہوگا تو شرح سود کا جائزہ لیں گے، کاروبار کرنے میں شرح سود کے علاوہ دیگر عوامل ہوتے ہیں، ایڈوانس ادائیگیوں کے لیے جولائی 2018 میں پابندی لگادی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے تھے اور شرح مبادلہ اوور ویلیو تھی، مینو فیکچرنگ کے لیے ایڈوانس ادائیگی نہیں تھی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرون ملک سے 10 ہزار ڈالر تک کی خدمات کی اجازت دے دی ہے، امپورٹس اور خدمات میں پہلے مرحلے میں 10 ہزار ڈالر کی رعایت کی ہے، مستقبل میں اس شعبے میں مزید مراعات دی جائیں گی، خدمات، امپورٹس پر رعایت سے چھوٹے، درمیانے کاروبار کا فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مئی 2018 میں پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ میں بیس کیا، آج فاریکس مارکیٹ میں حالات مستحکم ہوئے ہیں، روپے کی قدر میں استحکام سے کاروبار میں آسانی دی ہے۔رضا باقر نے کہا کہ ایکسپورٹرز کا معیشت میں اہم کردار ہے، ایکسپورٹ سے ہی غربت میں کمی، معیشت میں بہتری ہوتی ہے، سستے قرضوں کے ذریعے ایکسپورٹ کو سپورٹ کرتے ہیں، ایکسپورٹرز کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی سستے قرضے دیتے ہیں۔

loading...