منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی استاد احمد سایا کو دنیا کی معروف ترین کیمبرج یونیورسٹی ”دنیا کے بہترین ٹیچر“کے ایوارڈ سے نواز دیا گیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (آن لائن) پاکستانی استاد احمد سایا کو دنیا کے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے استاد احمد سایا نے دنیا کی معروف ترین کیمبرج یونیورسٹی کے ڈیڈیکیٹڈ (پرعزم ترین) ٹیچر 2019ء  کا ایواڈ جیت لیا۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق احمد سایا طلبہ کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے والے سال 2019ء  کے بہترین استاد ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ جامعہ نے ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایوارڈ 2019ء    کے لیے دنیا بھر سے 4 ہزار اساتذہ کو نامزد کیا گیا تھا جس میں 50 کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا۔ ان شارٹ لسٹ کیے گئے اساتذہ میں آخری 6 کے درمیان حتمی مقابلہ ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ ووٹ پاکستانی استاد احمد سایا کو ملے جس کے ساتھ ہی وہ سال کے بہترین استاد ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ان  آخری 6 اساتذہ کا تعلق پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، سری لنکا، ملائیشیا اور فلپائین سے تھا۔واضح رہے کہ احمد سایا گذشتہ 18 سال سے تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جنہوں نے فاؤنڈیشن پبلک اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اکاؤنٹنگ اور ریاضی کا اپنا شوق پورا کرنے کے لیے انہوں نے آکسفورڈ  بروکس یونیورسٹی برطانیہ سے اپلائیڈ اکاؤنٹنگ میں گریجویشن مکمل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے انسٹیٹی ٹیوٹ  آفزنس منیجمنٹ (آئی او بی ایم) سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔اس وقت احمد سایا اے لیول کے مختلف اسکول اور کالجز سے وابستہ ہیں جو اکاؤنٹنگ اور ریاضی کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ او اینڈ اے لیول کے اساتذہ کے لیے ٹریننگ کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ وہ سائیکومیٹرک ٹیسٹنگ اور کاؤنسلنگ کے ادارے ”ریویل پاکستان” کے چیف آپریٹنگ افسر (سی او او) بھی ہیں جہاں وہ طلبا کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان کی کمزوریوں کو سامنے لانے میں ان کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ صحیح سمت میں جاتے ہوئے اپنے کیریئر کا انتخاب کرسکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ احمد سایا پسماندہ طالبعلموں کے لیے بنائے گئے ایک اسکول ”دی برج اسکول” سے بھی وابستہ ہیں۔ کیمبرج کے مطابق احمد سایا کو اسکول مکمل کرنے کے بعد اپنے طلبا کی زندگی سنوارنے کے اعزاز میں ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز کے لیے نامزد کیا گیا۔ احمد سایا نے کہا کہ پڑھانا ایک کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے جو کلاس کے اختتام کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔ میں اپنے طالب علموں کو صرف نصابی تعلیم نہیں دینا چاہتا، یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں انہیں اعلیٰ کردار، اخلاقیات اور حسن عمل کی تعلیم دوں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…