پاکستان کے ریونیو کی شرح نمو بہت حوصلہ افزا ہے، ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا اعتراف،پروگرام صرف6 ارب ڈالر کا نہیں بلکہ 36 ارب ڈالرز کا ہے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے حیرت انگیز انکشافات

  منگل‬‮ 17 ستمبر‬‮ 2019  |  22:45

اسلام آباد (این این آئی)عالمی مالیاتی ادارے کے ڈائریکٹر وسطی ایشیاء جیہاد آزور نے کہا ہے کہ پاکستان کے ریونیو کی شرح نمو بہت حوصلہ افزا ہے، اس میں 30 فیصد اضافہ ہواہے،پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا نہیں حکومت کا پروگرام ہے جس کے تحت 6 ارب ڈالر دینے ہیں تاہم مکمل پروگرام 36 ارب ڈالر کا ہے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر وسطی ایشیاء جیہاد آزور نے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی۔چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی اورگورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بھی موجود تھے۔ملاقات میں پاکستان


کی معاشی صورت حال اور قرض پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جب کہ مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف وفد کو معاشی استحکام کیلئے اقدامات پر بریفنگ بھی دی۔آئی ایم ایف وفد کو بتایا گیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارے میں کمی آرہی ہے، موجودہ سال نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 1000 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، سرکاری اداروں کے نقصانات میں کمی کیلئے نجکاری کا عمل تیز کیا جائے گا۔مشیر خزانہ نے کہاکہ نجکاری کی ایکٹیو لسٹ میں مزید 10 ادارے شامل کیے گئے ہیں، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور ریونیو میں اضافہ کیا جائے گا، موجودہ سال معاشی ترقی کا ہدف پورا کیا جائے گا۔بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ میں جیہاد آزور کا خیر مقدم کرتا ہوں،آئی ایم ایف کا پروگرام بہت اہم ہے،حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تمام اہداف حاصل کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک میں جلد معاشی استحکام لایا جائے،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات خوش اسلوبی سے انجام پائیں۔اس موقع پر جیہاد آرزو نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں شرکت کی، جولائی میں پاکستان آنا چاہتا تھا مگر بوجہ نہ آسکا۔انہوں نے کہا کہ پروگرام درست سمت میں بڑھ رہا ہے۔ پروگرام کے اہداف پر غور کیا، فنڈ مشن اکتوبر یا نومبر میں آئے گا۔ جیہاد آزور نے کہا کہ پاکستان کی حمایت کیلئے پاکستان کا دورہ کیاہے۔ عمومی طور پر اصلاحات پروگرام پر عملدرآمد مشکل ہوتا ہے۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے کہا کہ میں دورے میں کراچی کا بھی وزٹ کروں گا جہاں اسٹیٹ بینک حکام اور کاروباری لوگوں سے ملاقات ہو گی۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان میں سماجی شعبے کی بہتری چاہتا ہے،خطے میں گزشتہ چند دنوں میں کئی انوکھے واقعات ہوئے ہیں، ہم تیل کی قیمت میں اضافہ کے اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک پر کیا اثرات ہوں گے اس کو دیکھنا ہو گا۔جیہاد آزور نے کہا کہپاکستان کے ساتھ پروگرام کو ابھی بہت کم مدت ہوئی ہے۔ حکومت ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے مطابق بنانے کیلئے کام کر رہی ہے۔ پروگرام کے اہداف میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔ عدم توازن کو کم کرنے کیلئے اقدامات لئے گئے ہیں۔عالمی مالیاتی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ وزیر اعظم نے پروگرام پر عملدرآمد پر یقین دہانی کروائی ہے۔ پروگرام پر عملدرآمد سے معاشی استحکام آئے گا۔ یہ ڈھانچاجاتی اصلاحات پروگرام ہے جس سے معاشی استحکام آئے گا۔جیہاد آزور نے کہا کہپاکستان کو پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ توانائی سیکٹر کو بھی مکمل اصلاحات کی ضرورت ہے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی ضرورت ہے جس کیلئے گردشی قرض کو ختم کرنا ہے۔ اداروں میں اصلاحات اور انکو خود مختاری کی ضرورت ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کے نمائندے نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ سب کو اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام ایک قسط تک محدود رکھنا نہیں چاہتے، پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام اہداف ازسرنو مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

loading...