منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے اس سابق رکن اسمبلی کو بھارت میں پناہ نہ دی جائے، سردار سورن سنگھ کے بیٹے نے مودی سے اپیل کردی

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

پشاور (این این آئی)پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کے بیٹے اجے سنگھ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ بلدیو کمار کو بھارت میں پناہ نہ دیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق صوبائی وزیر اقلیتی امور سورن سنگھ کے19 سالہ اجے سنگھ نے کہا کہ والد کے قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے

بلدیو کو 2018 میں بری کردیا تھا تاہم اب بھی پشاور ہائی کورٹ میں اْن کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہے۔اجے نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت بلدیو کو واپس پاکستان بھیجے۔اجے سنگھ نے کہا کہ مودی ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف بات کرتے ہیں۔انہوں نے انصاف کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مودی پاکستانی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ملزم کو بھارت میں پناہ نہیں دیں گے۔انہوں نے پیشی کی تفصیلات میں بتایا کہ بلدیو پر بونیر کے پیر بابا پولیس اسٹیشن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 7 کے مطابق اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 302 کے تحت مقدمات درج ہیں۔اجے کے مطابق انہوں نے بلدیو سمیت 6ملزمان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس میں 30 ستمبر کو ملزمان کو طلب کیا گیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی بھارت ذمہ دار ملک کا برتائو کریگا اور دہشت گردی میں ملوث شخص بلدیو کو سیاسی پناہ نہیں دے گا۔دوسری جانب بلدیو کمار کا کہنا ہے کہ انہیں ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی سمن موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ملزم ہوتے تو امیگریشن حکام انہیں ویزہ جاری نہیں کرتے۔بلدیو کے مطابق اْن کے ساتھی سورن کا قتل اقلیتوں کو پاکستان میں برداشت نہ کرنے والے دہشت گردوں نے کیا تھا۔

تحریک طالبان نے سورن سنگھ کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی اس کے باوجود مجھے 2 سال جیل میں رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ وہ واپس پاکستان نہیں جائیں گے کیونکہ اْن کی 11 سالہ بیٹی ریا تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا ہے جو بھارتی میں زیر علاج ہے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق رکن اسمبلی بلدیو کمار نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…