مولانافضل الرحمان کو بڑا سرپرائز، پیپلزپارٹی نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کھل کرمخالفت کردی،دوٹوک اعلان

  جمعرات‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2019  |  19:22

لاہور(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ اس حکومت نے پہلے ہی قانونی اور مالی بحران پیدا کر رکھا ہے اور اب یہ آئینی بحران پیدا کر رہی ہے،سندھ حکومت کو توڑنے کی کوششیں ہو رہی ہے اور فارورڈ بلاک بنانے کی سازش کی جا رہی ہے،مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کے ساتھ ہیں،لاک ڈاؤن کرنے کے حق میں نہیں ہے اور یہ مولانا فضل الرحمن کا ذاتی فیصلہ ہے،اپوزیشن تمام طریقوں سے عوامی مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیپلزپارٹی


سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ فریال تالپور اور سابق صدر آصف زرداری کے مقدمات کو پنجاب میں سنے جانے سے آئینی بحراں پیدا ہو رہا ہے۔کل وزیر قانون نے کراچی میں دفعہ 149 لگانے کا کہا ہے۔انہوں نے بعد میں اپنا بیان واپس لیا اور کہا کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی رائے دی ہے۔وفاقی حکومت سندھ میں ایگزیکٹو اختیارات استعمال کرنا چاہتی ہے۔ آرٹیکل 149 کے مطابق وفاق اگر امن و امان اور مالی طور پر اگر کوئی مشورہ دینا چاہتا ہے تو مشورہ دے سکتا ہے۔موجودہ حکومت کراچی میں انارکی پیدا کرنا چاہ رہی ہے جب سے یہ حکومت بنی ہے ہم خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ حکومت فاشسٹ طرز پر چل رہی ہیفاشسٹ طرز حکومت میں خوف کی فضا قائم کر کے حکمرانی کی جاتی ہے، ہم نے حکومت سے پارلیمانی نظام کو معتبر کرنے کی درخواست کی ہے۔سندھ کے چیف منسٹر نے پنجاب حکومت کو خط لکھا ہے کہ سندھ اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز کا احترام کیا جائے۔وفاقی حکومت فنڈز کو گورنر کے زریعے استعمال کر رہی ہے۔ایسی ہی حرکات سے ہم پہلے بھی نقصان اٹھا رہے ہیں پاکستان کے احتسابی نظام کو شفاف ہونا چاہئے،احتسابی عمل کو اپوزیشن تک محدود نہ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت آئین سے ماورا اقدامات کر رہے ہیں۔عدالت نے ماوائے اقدامات کی اجازت نہ دینے کا کہا ہے۔پاکستان میں جمہوری روایات کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔آزادی رائے پر پابندی لگانے پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا ہے،ہم میڈیا کے مالکان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوئے ہیں لیکن کارکنوں کو نکالنے کا مقصد اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔صحافیوں کے حالات تنک کر دینا کوئی احسن اقدام نہیں ہے،سیاسی جماعتوں پر تو این آر مانگنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے لیکن چیف جسٹس اف پاکستان کی بات کو کیسے اگنور کیا جا سکتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بھی کرپشن کے کیسز سامنے ا ٓرہے ہیں۔اس حکومت اور ملک کا ساتھ ساتھ چلنا اب ممکن نہیں رہا۔اعلی عدلیہ کو احتیاط کے دامن سے باہر انا ہو گا،عدلیہ کو آئین و قانون کی بالادستی کرنے کے لئے آگے آنا ہو گا۔پیپلز پارٹی نے ہمیں فیڈریشن پر صوبوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چودھری منظور احمد نے کہا ہے کہ پنجاب پارٹی کی طرف سے وزیراعلی، سپیکر پنجاب اسمبلی کو خط لکھا ہے، فریال تالپور کو پنجاب حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے،فریال تالپور کو سندھ حکومت کے حوالے نہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی کل سے احتجاج کرے گی، پنجاب کے تمام حکمرانوں کو خط پہنچا دئے گئے ہیں، ایک صوبے کو دوسرے صوبے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کی جماعت میں اگر کسی کو وزیراعلی سے اختلاف ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کے ساتھ ہیں،لاک ڈاؤن کرنے کے حق میں نہیں ہے اور یہ مولانا فضل الرحمن کا ذاتی فیصلہ ہے،اپوزیشن تمام طریقوں سے عوامی مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔

موضوعات:

loading...