اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

معاملات ہمارے ہاتھ سے نکل گئے ہیں، مولانا فضل الرحمان کا مارچ رکوانے کی کوشش پر حکومت کو دو ٹوک جواب مل گیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علماء اسلام (ف)کی جانب سے اکتوبر میں اسلام آباد میں آزادی مارچ سے قبل مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد مارچ کی قیادت کیلئے ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد قیادت کیلئے پارٹی کے اہم رہنماؤں کے نام سامنے آگئے،مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری کے بعد کمانڈ کیلئے مولانا عبدالغفور حیدری کا نام سر فہرست ہے، اکرم خان درانی، مولانا عطاء الرحمن، علامہ راشد خالد سومرو،

مولانا اسعد محمود کا نام زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری یا نظر بند ہونے کی صورت میں فرسٹ، سیکنڈ، تھرڈ نام مارچ کو کمانڈ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ گرفتاری ہو یا نظر بندی،کسی بھی صورت میں آزادی مارچ ملتوی نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے آزادی مارچ کے اعلان کے بعد مارچ کوموخرکرانے کے لیے وفاقی حکومت سرگرم ہوگئی،،وفاقی وزیر محمدمیاں سومرو نے جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی) کے سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ راشدمحمود سومروسے رابطہ کیا ہے اور انہیں مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جے یوآئی کی جانب سے اکتوبر میں اسلام آباد کولاک ڈاؤن کرنے کے اعلان کے بعد حکومت سخت پریشان ہے اورحکومت کی جانب سے جے یو آئی کی حکومت مخالف تحریک کو روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ذرائع کے مطابق حکومت میں شامل ایسی اہم شخصیت جن کے تعلقات جے یو آئی کی قیادت کے ساتھ ہیں کو رابطے رکھنے کا کہا گیاہے تاکہ کسی بھی صورت وہ اس احتجاج کو روک سکیں، ادھر جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں آزادی مارچ اور اسلام آبادلاک ڈاؤن کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے اور اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی بھرپورکوشش جاری ہے، وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو نے گذشتہ روز جے یو آئی سندھ کے

سیکریٹری جنرل اور پارٹی میں مولانا فضل الرحمن کے سب سے قریب تر سمجھے جانے والے رہنما علامہ راشد محمودسومرو سے ملاقات کی ہے،ملاقات کے متعلق ذرائع نے بتایاہے کہ وفاقی وزیرمحمدمیاں سومرونے جے یو آئی رہنما علامہ راشد محمودسومرو سے ملاقات کرکے اکتوبر میں حکومت مخالف تحریک کو موخر کرنے کی درخواست کی ہے اور وفاقی وزیر محمدمیاں سومرونے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی خواہش کابھی اظہار کیاہے، ذرائع کے مطابق

علامہ راشدمحمودسومرونے وفاقی وزیر محمدمیاں سومرو کو دوٹوک اندازمیں کہاکہ اب معاملات جے یو آئی کے ہاتھ میں نہیں رہے بلکہ حکومت مخالف تحریک تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے، اس سلسلے میں جب جے یو آئی سندھ کے رہنما علامہ ناصرخالد محمودسومرو سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر محمدمیاں سومرواور علامہ راشد محمودسومرو کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اور جب دوسیاسی رہنما مل بیٹھتے ہیں تو یقیناسیاست کی موجودہ صورتحال ہی زیربحث ہوتی ہے، البتہ انہوں نے ملاقات میں کیا باتیں ہوئی بتانے سے گریز کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…