پمز ہسپتال میں 500سے زائد بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں، انتظامیہ نے ملازمین کو کام چھوڑ کر جانے کا عندیہ دے دیا

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  20:39

اسلام آباد(آن لائن) وزارت صحت کی جانب سے پمز اسپتال میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ڈاکٹروں اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کی نوکریوں میں توسیع سے انکار کے بعد 500 سے زائد بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ میڈی رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم اور پارلیمانی کمیٹیوں کی واضح ہدایات کے باوجود وزارت صحت نے پمز کے شعب بون میرو ٹرانسپلانٹ میں کام کرنے والےڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کے کنٹریکٹ میں توسیع سے انکار کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کو گزشتہ تین ماہ سے تخواہ


بھی نہیں ملی۔ ذرائع کے مطابق کنٹریکٹ میں توسیع نہ ملنے کے بعد پمز ہسپتال انتظامیہ نے ملازمین کو کام چھوڑ کر جانے کا عندیہ دے دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمین کے چلے جانے کے بعد تمام بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتیں ہیں۔ پمز ہسپتال کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سنٹر میں اب تک 141 کامیاب ٹرانسپلانٹ کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح تھیلیسما سے متاثرہ پانچ سو سے زائد بچوں کے تمام ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں۔پمز ہسپتال ذرائع کے مطابق ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کے بارے میں وزارت صحت کو متعدد بار مراسلے لکھے گیے مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا.اس سال مئی میں سینٹ کے قائمہ کیٹی برائے کابینہ سکرٹریٹ نے محکمہ صحت کو اسلام آباد کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے بارے میں واضح احکامات جاری کیے تھے، تاہم وزارت صحت نے احکامات نظر انداز کر دیے۔

loading...